dushwari

میانمار کے روہنگیا مظلومین کو جنوبی بھارت میں پناہ دینے ، شعبۂ صحافت کو تقسیم نہ کرنے ، اور کسانوں کی ہرممکن مدد کے لئے

بیدر ضلع کے اردو جرنلسٹوں نے وزیر اعظم ہند کے نام پیش کی یادداشت 

بیدر۔14؍ستمبر2017(فکروخبر/ذرائع) بیدر ضلع کے اردوجرنلسٹوں کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر بیدر کے توسط سے ایک یادداشت وزیراعظم ہند کے نام روانہ کی ہے۔ جس میں بتایاگیاہے کہ ’’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘‘کانعرہ تو دیاگیا لیکن 5ستمبر2017 ؁ء کوبھارت کی ایک بیٹی مصنف اور صحافی گؤری لنکیش کو بنگلور میں قتل کردیاگیا اور اس کے قاتل آج تک گرفتار نہیں ہوسکے۔ پولیس اور حکومت کرناٹک بھی اندھیرے میں ہے۔ جس سے پتہ چلتاہے کہ امن وقانون کی صورتحال کو کنڑول کرنے میں حکومت ناکام ہے۔

بیدر ضلع کے اردو جرنلسٹ کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت اس تعلق سے لازمی قدم اٹھائے اور خاطیوں کی گرفتاری عمل میں آئے۔ اسی طرح ڈاکٹر ایم ایم کلبرگی کے قاتلوں کی گرفتاری کابھی مطالبہ کرتے ہیں۔سید یداللہ حسینی ، امین الدین نواز، محمد شجاع الدین، محمد عبدالصمد منجووالا، محمدیوسف رحیم بیدری، ڈاکٹر عبدالقدیر قادری، سید رضوان ہمناآباد ، ساجد پاشاہ ، اختررحمن اور محمدعلیم الدین بندہ نوازی کی دستخط سے بنفس نفیس دی گئی یادداشت میں دوسرانکتہ روہنگیا(میانمار) کی بڑی آبادی کا ہے جس کومیانمار کے مقامی افراد قتل کررہے ہیں۔ حتی کہ میانمار کی حکومت بھی مقتولین کے بجائے قاتلوں کی مددکررہی ہے۔مقتولین میں صرف مسلمان شامل نہیں ہیں بلکہ کئی ہندوخاندان قتل ہوچکے ہیں۔ اور مقامی افراد کے ہاتھوں کئی ایک کی عصمت دری کی گئی ہے۔ 90ہندواپنی جان کھوچکے ہیں۔ 500ہند وفیملی جنگلوں میں بھٹک رہے ہیں اور کچھ بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہم بھارتیوں کے دل وسیع ہیں ہم نے تبت اور نیپالیوں کو اپنے ہاں پناہ دی اسی طرح میانمار کے افراد کو بھیUNOکے تحت جنوبی بھارت میں پناہ دیتے ہوئے انہیں رہائش ، غذااور روزگار کی فراہمی میں مدددی جائے۔ اردو جرنلسٹوں کے وفد نے شعبۂ صحافت کو تقسیم کرنے کی پالیسی پر اپنی تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ صحافت کو ’’تقسیم کرواورحکومت کرو‘‘ کی حکومت کی پالیسی صاف نظر آرہی ہے۔ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ دستور ہند کے بموجب تمام ہندوستانی زبانوں کو مساوات حاصل ہے۔ اورتما م ہی زبانیں لائق احترام قرار دی گئی ہیں۔مختلف زبانوں کی صحافت کو تقسیم کرنے سے ملک کو خطرہ پیدا ہوگا۔ یہ ایک سنجیدہ موضوع ہے۔ جس کا اثر مستقبل پر پڑے گا۔ اس طرف توجہ دے کر ملک کاتحفظ کیاجائے۔ آخری بات یہ کہ کسانوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ اگر کسانوں کی ہم نے مدد نہ کی تو بہت کچھ کھودیں گے ۔لہذا ہم یہ چاہتے ہیں کہ کسانوں کو لون ، سبسیڈی اور زرعی اوزار فراہم کئے جائیں ۔ بھارت کا کسان خوش رہے گاتو تمام بھارت میں خوشحالی آئے گی۔امید ہے مذکورہ تمام امورپر فوری توجہ دی جائے گی۔اور مسائل کو حل کیاجائے گا۔ڈپٹی کمشنر بیدر نے تیقن دیاکہ وہ اس یادداشت کو وزیر اعظم ہند تک فوری پہنچائیں گے۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES