dushwari

دلت اسکالر کی خودکشی راہل گاندھی کا بھوک ہڑتال شروع (مزید اہم ترین خبریں )

طالب علم کی المناک موت کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش ۔۔بی جے پی 

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے آج حیدرآباد یونیورسٹی میں مظاہرین کے ساتھ بھوک ہڑتال کی جبکہ بی جے پی نے فوری طور پراپنا ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہ یہ محض سیاسی ڈرامہ ہے اور دلت اسکالر کی خودکشی پر سیاسی چنگاری تیز کرنے کا عمل ہے۔ راہل گاندھی کا یونیورسٹی کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ یونیورسٹی کا کیمپس مبینہ طور پرتعصبانہ ذات پات کے خلاف ملک گیر غم وغصہ کا مرکز بناہوا ہے۔راتوں رات عبوری وائس چانسلر کے چھٹی پر چلے جانے کے بعد تنازعات میں نیا موڑ آگیا۔

ذرائع کے مطابق راہل گاندھی نے کہا کہ ایک نوجوان کی زندگی خواب اورخواہشات سے بھری ہوئی تھی جو ختم ہوگئی ۔ گاندھی نے صبح میں اپنے بھوک ہڑتال سے قبل روہت کی یوم پیدائش کے موقع پر2 ہزار طلباء کے ساتھ گزشتہ شب ایک مومبتیاں لے کر مارچ میں شرکت کی ۔ ہم گاندھی جی کی یاد میں روہت کے لئے واجب الاداہیں، ہر ایک ہندوسانی طالب علم کا عدم مساوات اور عصمت سے پاک ایک آزاد ہندوستان کا خواب ہوتا ہے۔ روہت کی ماں رادھیکا اور بھائی راجو نے بھی احتجاج میں شرکت کی ۔ بی جے پی اور دایاں بازوں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی ) نے راہل گاندھی کے دوسرے دورے پر حملہ کیاہے۔تلنگانہ بی جے پی کے ترجمان کرشنا ساگرراہ نے کہا کہ انہیں کچھ چھوٹی چھوٹی سیاسی مصلحت حاصل کرنے کی اشد کوشش ہے، انہیں ایچ سی یو کیمس میں واپس لایا گیا ہے۔ مقبولیت کے لئے یہ ایک سیاسی ڈرامہ ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس سیاسی طور پر دیوالیہ ہورہے ہیں اور باربار ایک طالب علم کی المناک موت کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اے بی وی پی نے بھی راہل گاندھی کے خلاف احتجاجا تلنگانہ میں کالجوں کو بند کرنے کے لئے کہا ہے۔ دیرشب گاندھی کیمس میں پہنچے اورایک مختصر وقت کے لئے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔اپوزیشن پارٹیاں مسلسل وائس چانسلر پوڈل اپا ، مرکز اسمرتی ایرانی اور بنڈارو دتاتریہ کے خلاف کارروائی کے لئے مرکز پر دباؤ بنارہی ہے جو روہت سمیت یونیورسٹی کے پانچ طالب علموں پر دباؤ ڈالنے کے ملزم ہیں۔ 


مژھل کپوارہ میں 3کمسن طالب علم برفانی تودے کے نیچے دب گئے 

ایک موقعہ پرہی لقمہ اجل ، 2کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا

سرینگر۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرآنے کی وارننگ کے بیچ لیہہ شمالی کشمیر کے ژونٹھ واری مژھل علاقے میں بھاری برفانی تودے کی زد میںآکر ایک کمسن طالب علم جاں بحق جبکہ دو دیر زخمی ہو گئے ہیں ۔ نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ سنیچرکی صبح شمالی کشمیر کے مژھل بالاعلاقے میں برفانی تودہ گرآنے کا ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا۔نمائندے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کمسن طالب علم درسگاہ میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے جا رہے تھے کہ کہ ژونٹھ واری بالاکے مقام پرایک بھاری بھرکم برفانی تودے کی زد میں آگئے ۔برف کی مقدار اس قدر زیادہ تھی کہ تینوں طالب علم مکمل طوربرف کے نیچے دب گئے ۔اسی دوران سینکڑوں اہلکاروں پر مشتمل امدادی ٹیم کئی کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرنے کے بعد جائے واردات پر پہنچ گئی اور بچاؤ کارروائی شروع کی ۔پولیس ذرائع نے نمائندے کو بتایا کہ ابتدائی کارروائی کے دوران ہی ایک کمسن طاب علم جس کی شناخت 15سالہ معراج الدین خان ولد بشیر احمد ساکنہ کٹوارہ مژھل کو برف کے نیچے سے مردہ بر آمد کیا گیا جبکہ بچاؤ اہلکاروں نے2مزید کمسن طالب علموں جن کی شناخت 14سالہ جاوید احمد خان ولد یونس خان ساکنہ خالی بالا اور 14سالہ عبدالرشید میر ولد عبدالرحمان ساکنہ ژونٹھ واریبالا کو زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل کی، تاہم وہ بری طرح سے زخمی تھے اور ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی ۔علاقہ دو رافتادہ ہونے کی وجہ سے واقعہ کی نسبت مزید تفاصیل معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ صوبائی انتظامیہ نے پہلے ہی مختلف اضلاع میں برفای تودے گرآنے کی وارننگ جاری کی ہے جن میں یہ علاقہ بھی شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اضلاع کے بیشتر بالائی علاقوں میں بھاری برفباری ہوئی ہے اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث اس طرح کے واقعات پیش آنے کا خطرہ موجود ہے،لہٰذا لوگوں سے نقل و حرکت کے حوالے سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔


جموں میں پُر اسرار طور لاپتہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر کی لعش چناب سے بر آمد 

جموں۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)گزشتہ کئی ماہ سے جموں میں پُر اسرار طور لاپتہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر کی لعش کو دریائے چناب سے بر آمد کر لی گئی ہے جبکہ پولیس نے واقعہ کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔جموں سے نمائندے نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ دو نومبر 2015کو ایک بی جے پی لیڈر جگدیپ پرہار ولد سبھاش پرہار ساکنہ مٹا جموں اچانک لاپتہ ہو گیا تھا جس کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کی گمشدگی کی ایک رپورٹ درج کی تھی اور پولیس نے مذکورہ لیڈر کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کرکے اس کے لئے ایک اسپیشل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی ،نمائندے کے مطابق مذکورہ لیڈر کے علاقے میں آج اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب مذکورہ لیڈ ر کی لعش دریائے چناب سے بر آمد کر لی گئی ۔نمائندے کے مطابق ایک مقامی شہری نے دریائے میں ایک لعش تیرتے دیکھی جس کے بعد اس نے پولیس کو اطلاع دی اور پولیس نے جائے واردت پر پہنچ کر لعش کو اپنی تحویل میں لیا اور ضروری لوازمات پُر کرنے کے بعد اسکو لاحقین کے حوالے آخری رسومات کیلئے کی گئی ۔


عدم رواداری پر عامر خان کا تبصرہ مجھے اور ملک کو تکلیف دینے والا تھا /ایم وینکیا نائیڈو 

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)شہری ترقیات کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ اداکار عامر خان کا جاری عدم رواداری بحث پر تبصرہ مجھے اور ملک کو تکلیف دینے والا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عامر خان میرے اچھے دوست ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے عدم روادار ی پر اس طرح کی چیزیں ملک اور مجھے تکلیف پہنچا ہے اور میری رائے ہے۔اطلاعات کے مطابق نائیڈو نے یہ بات مہاراشٹر ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ میں ’چھاترا سنسد‘ ( پارلیمنٹ طلبا) کے ٹویٹر ہینڈل کے ذریعہ اٹھائے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں مسلسل عدم رواداری پر بحث جاری ہے ۔ کیا ہے عدم رواداری ، کسی دیگر افراد کے جذبات کا احترام نہ کرنا عدم رواداری ہے جنہیں وزیراعظم قبول نہیں ہیں ،وہ بڑے پیمانے پر عدم روادار ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں 50 سالہ سپراسٹار عامر خان نے کہاکہ گزشتہ کچھ مہینوں سے ہوئے واقعات سے کافی دکھی ہیں او ر ان کی بیوی کرن راؤ انہیں مشورہ دیتی ہیں کہ انہیں یہ ملک چھوڑ دینا چاہئے ۔ وہ اخبار کھولنے سے ڈرتی ہیں ، ان کا کہنا ہے اس طرح کے ماحول پیدا ہونے سے ہمارے اردگر د میں کیسا ماحول ہوگا۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں کہرام برپا ہوگیا ۔ چہار جانب سخت رد عمل آنے شروع ہوگئے ۔ انہوں نے ایوارڈ واپسی کی یہ کہتے ہوئے حمایت کی تھی کہ ایوارڈ واپس کرنے والے موجد افراد کا ناامیدی اور عدم اطمینان کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ ؂ نائیڈو نے پروگرام میں پارلیمنٹ نہ چلنے پر مرکزی وزیر کی تنقید کی اور کہا کہ پارلیمنٹ اجلاس تبادلہ ، بحث اور فیصلہ کرنے کی جگہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے فصل انشورنس اسکیم پر عمل درآمد کیا جارہا ہے ۔ حکومت سستا قرض دے کر کسانوں کی مدد کرے گی جو بینک کے ذریعہ دستیاب کرایا جائے گا۔


ہند پاک خارجہ سیکریٹری مذاکرات طے نہیں

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ہند پاک خارجہ سیکریٹری رابطے میں ہیں اور باہمی رضامندی سے ملاقات کی تاریخ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نمائندے کے مطابق اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے مزار پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پٹھان کوٹ واقعے کی تحقیقات دونوں ممالک کر رہے ہیں، اس وقت اس سے متعلق کچھ کہنا ٹھیک نہیں ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری مستقبل قریب میں مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہوگئے تھے اور اب باہمی رضامندی سے ملاقات کی تاریخ طے کرنے پر بات چیت ہو رہی ہے۔


بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری اور میدانوں میں بار شیں 

کل رات کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دن میں دھوپ نکلنے سے سردی سے راحت

سرینگر۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع)بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری اور میدانوں میں بارشوں سے وادی بھر میں کل رات کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنی کو ملی۔البتہ دوپہر کے بعد دھوپ نکلنے سے سنیچروار کوسردی سے راحت ملی۔ذرائع کے مطابق سرینگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی شب بارشوں جبکہ گلمرگ اور دیگر پہاڑی علاقوں برفباری کا سلسلہ شروع ہوا جو رات دیر تک وقفے وقفے کے ساتھ جاری رہا۔ سنیچروار کو سرینگر میں آسمان پر کالے بادلوں کے بیچ بونابوندی بھی جا ری ر ہی تاہم بعد میں ہلکی سے دھوپ بھی نکلی۔ تازہ اطلاع کا مطابق کپواڑہ ضلع کے با لائی علاقوں میں بھاری برف باری ہوئی جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی برف با ری ہو ئی ۔اس دوران سادھنا ٹاپ پر فرکیاں گلی پر اور مڑھل کی زیڈ گلی پرتازہ برف ریکا رڑ کی گئی۔ گلمرگ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ گلمرگ ، کونگہ ڈوری افروٹ پہاڑیوں اورمضافاتی علاقوں میں گذشتہ شب سے برفباری ہورہی ہے اور وہاں قریب23 سنٹی میٹرتازہ برف گری ہے جبکہ ٹنگمرگ میں رات بھر برفباری کا سلسلہ رات بھر وقفہ وقفہ سے جاری رہا۔اس دوران سونہ مرگ،لداخ کے بیشتر علاقوں،مڑھل،ٹیٹوال،گریز ،زوجیلااور اوڑی کے بالائی علاقوں میں بھی تازہ برفباری کی اطلاعات ملی ہیں۔جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جبکہ سرینگر میں بھی بارشوں کا آغاز ہوا۔ گلمرگ میں تازہ برفباری سے سیاحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہیرفیع آباد بارہمولہ کے کئی علاقوں میں4ے5انچ جبکہ کنڈی اور شیری میں 4سے6انچ برف ریکارڈ کی گئی امرناتھ گپھا کے ملحقہ علاقوں، سنتھن ٹاپ ، چندن واڑی اور دیگر اونچائی والے علاقوں میں میں ہلکے سے درمیانہ درجے کی برفباری ہوئی۔لداخ کے کئی علاقوں میں بھی تازہ برفباری ہوئی۔اسی طرح وادی کے میدانی علاقوں میں ہلکی برشیں اور بالائی علاقوں میں ہلکے سے درمیانہ درجے کی برف باری ہونے کی اطلاعات ہیں۔اس دوران سرینگر جموں شاہراہ ٹریفک کی آمد و رفت کیلئے کھلی رہی اور مسافر و مال بردار گاڑیوں کی بڑی تعداد شاہراہ سے سفر کیا۔اس دوران ہوائی ٹریفک بھی معمول کے مطابق چلتی رہی اور دن بھر کوئی پرواز منسوخ نہیں ہوئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں جمعہ کی شب درجہ حرارت1.8ڈگری سیلشیس ، گلمرگ میں منفی6.5، پہلگام میں منفی0.3 گلمرگ لیہہ میں منفی 8.6ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔دریں اثنا سرینگر اور دیگر کئی قصبہ جات میں کل سورج جلوہ افروز ہوا جس کے پیش نظرصوبائی انتظامیہ نے اوپری علاقوں میں برفانی تودے گرنے کا خدشہ ظاہر کیاہے۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ سیل کے مطابق وادی کے بیشتر بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کا خطرہ موجود ہے جن میں گریز ، بڈوآ ب، کنزلون، چکوالی،کیرن ،کرناہ ، گوگلڈارہ، مڑھل ،سادھنا ٹاپ ،رازدان پاس ، ٹنگڈار، اوڑی اور گلمرگ کے اوپری علاقے قابل ذکر ہیں۔ دراس میں بھی اس طرح کا خطرہ موجود ہے۔ ان علاقوں میں باضابطہ طور پر برفانی تودے گر آنے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو گھروں کے اندر ہی رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بالائی علاقوں کے لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مجبوری کی حالت میں گھروں سے باہر آنے کے دوران انتہائی احتیاط سے کام لیں۔


تازہ برفباری سے سیاحوں میں خوشی کی لہر

سرینگر۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع) تازہ برفباری سے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی ایک خاصی تعداد معروف سیاحتی مقامات گلمرگ ، پہلگام اور سونہ مرگ میں لطف اندوز ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطا بق وادی میں چلے کلان کے آ خری ایام میں تازہ برفباری کے بعد سیاحوں میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے اور ان دنوں وادی کے مختلف سیاحتی مقامات پر ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی ایک خاصی تعداد دیکھنے کو مل رہی ہے جو قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ سیاحتی مقام گلمرگ اور پہلگام کی برفیلی وادیوں میں سیاحوں کی بڑی تعداد برفباری کا لطف اٹھا رہی ہے اور وہ دنیا کے خوب صورت برف سے بھرے ڈھلانوں پر اسکیٹنگ سے مزے لے رہے ہیں۔ گلمرگ میں سیاحت سے جڑے افراد میں کافی خوشی دیکھنے کو مل رہی ہے اور وہ خاصی تعداد میں آئے ہوے سیلانیوں کا دل کھول کر استقبال کر رہے ہیں۔ مرکبان اور برف سلیج چلانے والے طبقہ کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں سیلانیوں کی آمد ان کیلئے آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ ہوتا ہے اور وہ روزانہ 5سو لیکر1ہزار وپے تک کما لیتے ہیں جبکہ کشمیر ی دستکاری سے جڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں سیلانی قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں وہی وہ کشمیر کی دستکاری سے متاثر ہوکر خوب خریدادی کرتے ہے۔ پہلگام اور سونہ مرگ میں بھی ان دنوں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد قدرت کے نظاروں سے لطف اندو ز ہو رہے ہیں اور وہ زمین پر بچھی سفید چادر پر خوشی سے جھوم رہے ہیں۔یہاں سیاحت سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ سرمائی سیاحتی سیزن میں یومہ اجرت پر کا م کرنے والے مزدوروں کو کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ ا ن لوگوں کا روز گار سیلانیوں سے جڑ ا ہوا ہی۔ سیاحوں نے تازہ برفباری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برف کشمیر کی شناخت مانی جاتی ہے اور سیلانی برفیلی وادی کو دیکھنے کیلئے کھینچے چلے آتے ہیں


اب ریلوے اسٹیشن پر اے ٹی ایم سے ملے گاپانی

بریلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع ) اترپردیش کے بریلی جنکشن اسٹیشن پر صاف اور سستا پانی دستیاب کرانے کی کوشش کے تحت اگر سب کچھ حسب پروگرام رہا تو آئندہ مالی سال سے اسٹیشن پر مسافروں کو اے ٹی ایم سے پانی ملنے لگے گا۔ریلوے ذرائع نے بتایا کہ کہ پلیٹ فارم پر بینک کے اے ٹی ایم کی طرز پر پانی کا اے ٹی ایم لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس میں ٹوکن ڈالنے سے ایک لیٹر پانی نکلے گا جسے مسافر بوتل میں بھر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس نظم سے پلیٹ فارم ، ٹرین اور اسٹیشن احاطے میں پلاسٹک کی بوتلوں کا کچرا کم ہوگا ساتھ ہی پرانی بوتل میں پانی بھر کر مسافروں کو پلانے کی شکایت بھی دور ہوسکے گی۔ ذرائع کے مطابق اسٹیشن کو صاف ستھرا بنائے رکھنے کے لئے اب پلیٹ فارم پر نہانے اور سونے پر پابندی کی تیاری ہے۔ اسے جرم کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے جرمانے کا نظم کیا جارہا ہے۔


مغربی اتر پردیش میں شدید سردی

مراد آباد۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )اتراکھنڈ کی وادیوں میں برف باری ہونے کے سبب مغربی اتر پردیش میں سرد ہواؤں میں مزید زیادتی آگئی ہے اور اسی لئے سردی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔مراد آباد میں صبح دیر تک کہرا چھایا رہا۔درجہ حرارت میں کمی آنے سے معمولات زندگی بے حد متاثر ہوئی ہے اور لوگ شام سے ہی گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔تمام علاقے میں شدید سردی کی وجہ سے سڑک اور ریلوے ٹریفک بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔سڑکوں پر کہرے کی وجہ سے ٹریفک رینگتا ہوا چل رہا ہے وہیں زیادہ تر ٹرینیں یا تو تاخیر سے چل رہی ہیں یا پھر رد کر دی گئی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مرادآباد میں کم سے کم درجہ حرارت 7.2ڈگری سیلسیس درج کیا گیا جبکہ آئندہ 24گھنٹوں میں کچھ مقامات پر کہرا چھائے رہنے اور موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔


چترکوٹ:ٹرین میں ٹائم بم ملنے سے افراتفری

چترکوٹ۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )اترپردیش میں چتر کوٹ کے مانک پور ریلوے اسٹیشن کے نزدیک وارانسی سے ممبئی جانے والی مہارانی ایکسپریس ٹرین میں ٹائم بم ملنے سے افراتفری مچ گئی۔ آناً فاناً میں ٹرین کو مانک پور ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا۔ اطلاع ملتے ہی انسداد دہشت گردی دستے ، اسپیشل ٹاسک فورس کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ کے سینئر افسران فوراً ہی موقع پر پہنچ گئے۔ایڈیشنل پولیس سپریٹنڈنٹ ا?ّر۔ بی۔چورسیا نے ا?ج یہاں بتایا کہ مہانگری ایکسپریس کے سلیپر کوچ کے بیت الخلا میں کل دیر رات کسی مسافر نے مشتبہ چیز دیکھی۔ اس نے فوراً ہی میں سوار ریلوے سیکورٹی فورس کے جوانوں کو اس کی اطلاع دی۔ جوانوں نے سیکورٹی افسروں کو بتاکر ٹرین کو مانک پور ریلوے اسٹیشن پر روکوادیا۔مسٹر چورسیا نے بتایا کہ مشتبہ چیز کی جانچ کرنے پر پتہ چلا کہ وہ ٹائم بم ہے ، جس میں گھڑی، تار اور ڈیوائس لگے ہوئے تھے۔انگریزی میں ایک خط بھی پایا گیا ہے۔ جس کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابھی جانچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے بہر حال اسے دہشت گردوں کی حرکت ہونے کو خارج ازامکان نہیں قراردیا ہے۔ایڈیشنل پولیس سپریٹنڈنٹ نے بتایا کہ آج علی الصبح بم کو ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ اس معاملے کی اعلی سطحی انکوائری کی جارہی ہے۔ ٹرین میں بم ملنے کی اطلاع لکھنؤ اور دہلی کو بھی دیدی گئی ہے۔دریں اثنا محکمہ ریل کے ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اس کی جانچ میں خفیہ ایجنسیوں کی بھی مدد لی جاسکتی ہے۔


اسکول بس الٹنے سے 22بچے زخمی

رائے بریلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع ) اترپردیش میں رائے بریلی بھدوکھر علاقے میں آج ایک اسکولی بس کے پلٹ جانے سے تقریباًً بائیس بچے زخمی ہوگئے۔پولیس نے بتایا کہ رائے بریلی ڈلمؤ روڈ پر منہارو گاو ں کے نزدیک ایک سائیکل سوار کو بچانے کی کوسش میں بی ایس ایف پبلک اسکول کی بس بے قابو ہوکر پلٹ گئی۔ حادثے میں زخمی بچوں کو ابتدائی صحت مرکز لایا گیا جہاں اٹھارہ کو ابتدائی طبی مدد کے بعد چھٹی دے دی گئی جب کہ زیادہ زخمی چار بچوں کو ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔


جذام کے مریضوں کے علاج کیلئے بیداری کی ضرورت: پرنب

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع ) صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے ملک سے پوری طرح جذام کے مرض کے خاتمہ کیلئے سماج میں لوگوں کے درمیان بیداری پھیلانے کی اپیل کی ہے۔مسٹر مکھرجی نے آج یہاں جذام کا مرض ختم کرنے کا دن منانے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ‘ہمیں جذام (کوڑھ) کے مرض کے خاتمہ کیلئے اس کے علاج، مریضوں کی دیکھ بھال اور مریضوں کی بازآبادکاری کے بارے میں سماج میں بیداری پھیلانی چاہئے ’۔انہوں نے ‘ہند کْشٹھ نیوارن سنگھ’ کو بھیجے گئے پیغام میں کہا ‘مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یہ تنظیم ہر سال 30 جنوری کو جذام سے بچاؤ کا دن مناتی ہے جو گاندھی جی کی شہادت کا دن ہے ’۔ انہوں نے کہاکہ برسوں سے جذام کا مرض انسانیت پر ایک بدنما داغ ہے اس لئے ا س کے مریضوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے کیوں کہ وہ سماج کے مرکزی دھارے سے حاشئے پر دھکیل دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج گاندھی جی کو یاد کرتے ہوئے اس مرض کی روک تھام میں ہمیں مصروف ہوجانا چاہئے تاکہ ملک اس مرض سے پاک ہوسکے ’۔واضح رہے کہ بروقت تشخیص اور فوری علاج سے جذام کے مرض کا خاتمہ ممکن ہے۔ ماضی میں اس مرض کو کوڑھ کا مرض اور مریض کو کوڑھی کہاجاتا ہے اور اس کے شکار مریض کو صحت مند افراد سے علیحدہ رکھا جاتا تھا جو کہ انتہائی تکلیف دہ طرز عمل تھا لیکن اب بروقت تشخیص اور فوری علاج سے جذام کا خاتمہ ممکن ہے۔ چنانچہ فارماسسٹ تمام طبی امدادوں میں اور کمیونٹی فارمیسی پریکٹس کے ذریعے عوام میں لیپروسی سے بچنے کے لئے کارا?مد اور مفید معلومات مہیا کریں اور اس کے عدم پھیلاو? میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ڈاکٹروں کے مطابق مریض تھوڑی بہتری کے بعد علاج چھوڑ دیتا ہے جو کہ مرض کی شدت میں آجانے کا باعث بنتا ہے۔ چنانچہ جب تک معالج ادویات کا استعمال بند کرنے کا مشورہ نہ دیں تب تک علاج جاری رکھنا چاہیئے۔ جذام کا مرض عام طورپر اعصاب اور جلد کو نشانہ بناتا ہے جس کے نتیجے میں گال، بازو، ران اور کولہے پر سفید دائرے نمودار ہونے لگتے ہیں اور متاثرہ جگہوں پر حس کم ہوجاتی ہے اور کان کے پیچھے اور کہنی پر بعض مخصوص دواؤں کے استعمال اور خصوصی توجہ سے مریض صحت یاب ہوسکتا ہے۔جذام (لیپروسی) کے مریض بہترین ادویات کے ذریعے چند ماہ کے علاج سے مستقل طورپر ٹھیک ہوجاتے ہیں اور اپنے خاندان کے لئے کارا?مد ہوسکتے ہیں۔ اس مرض میں ورزش ، تازہ ہوا، روشنی کا ملنا ہے اور متوازن غذا سود مند ثابت ہوتی ہے۔ مریض کے متاثرہ حصوں کی تیل سے مالش سے عضلات میں طاقت ، فزیو تھراپی سے ہاتھ، پاؤں ، آنکھوں کی حرکات میں بہتری، عیب دار عضو کو آپریشن اور پاؤں کے لئے اسپیشل جوتوں کے ذریعے درست کیاجاسکتا ہے۔


کرناٹک میں سرمایہ لگانے امریکی تاجروں کو سدرامیا کی آواز

بنگلورو۔ 30جنوری(فکروخبر/ذرائع) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے امریکہ کے سرمایہ کاروں سے درخواست کی ہے کہ وہ ریاست میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں۔شہر میں منعقدہ انڈو امریکن چیمبر آف کامرس کے اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ اگلے دس برسوں میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان 500 ملین ڈالرس کے کا روبار کرنے کا معاہدہ ہوا ہے۔ ایسے میں امریکہ کرناٹک میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے، جس کیلئے بہترین مواقع میسر کرانے کیلئے ریاستی حکومت تیار ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی اور ریسرچ کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کیلئے بہترین مواقع موجود ہیں۔ شہر بنگلور میں امریکہ کی ثقافت کو کافی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے نوجوان ایک ہی کمپنی میں ملازمت کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ان کے مطابق ریاستی حکومت نے زرعی مارکیٹنگ کو ترجیح دیتے ہوئے آن لائن تجارت کا نظام متعارف کرایا ہے، جس سے کسانوں کو کافی فائدہ مل رہاہے۔ زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ خود روزگار کیلئے اسٹارٹ اپ پالیسی جاری کرنے والی پہلی ریاست کرناٹک ہے، جس سے کئی صنعتیں قائم ہوئی ہیں۔ سدرامیا نے نوجوانوں کو ملک کی میراث قرار دیتے ہوئے بتایاکہ ان کی ترقی کیلئے مواقع فراہم کرنا بے حد ضروری ہے۔ ریاست میں الیکٹرانک سٹی کے علاوہ مختلف مقامات پر کلسٹر قائم کئے گئے ہیں۔ ایسے میں 3تا5 فروری شہر میں منعقد ہونے والے عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں دفاع ، زراعت ، فوڈ پروسیسنگ ، آٹو موبائل، توانائی اور آئی ٹی بی ٹی شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ اس موقع پر انفوسس کے نارائن مورتی نے بتایاکہ عالمی ترقی میں ہندوستان اور امریکہ کی خدمات کافی اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ حالیہ دنوں میں ہندوستان کی شرح نمو میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، اور امریکہ کے شرح نمو میں تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے، دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ تعلیم اور ریسرچ پر زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہندوستانی طلبا کو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے دس سال کا ویزا فراہم کیا جائے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد ان نوجوانوں کو وہاں پر رکھنے کی بجائے انہیں ہندوستان روانہ کیا جائے ۔ انہوں نے بتایاکہ جب منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے اس موقع پر انہوں نے اعلیٰ تعلیم کیلئے دونوں ممالک پر مشتمل مشترکہ یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ تیار کیا تھا، مگر اس پر عمل نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر للت کونڈیا اور ایف کے سی سی آئی کے سمپت رمن کے علاوہ دیگر موجود تھے۔


نہال انصاری کی والدہ کی سشما سوراج سے ملاقات

نئی دہلی ۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )پاکستان میں قید بھارتی نوجوان نہال انصاری کی والدہ نے نیو دہلی میں وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی۔ ملاقات میں نہال انصاری کی والدہ نے حکومت ہندسے نہال کی واپسی کے لئے حکومت پاکستان سے رابطہ کرنے کی درخواست کی۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نہال کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ تین سال سے اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہی تھیں اب جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ نہال انصاری پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے تو انہیں امید ہے کہ نہال کی واپسی کا کوئی راستہ نکل آئے گا۔ اس موقع پر سشما سوراج کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کو نہال انصاری کی رہائی کے لئے پاکستانی حکام سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔


مرکزی حکومت نے اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کرا دیا

نئی دہلی ۔30 جنوری (فکروخبر/ذرائع) مرکزی حکومت نے ریاست اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کرا دیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق 316 صفحات پر مشتمل بیان حلفی میں ریاست میں صدر راج کے نفاذ کے حوالے سے حکومتی موقف بیان کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں امن وامان کی صورتحال خراب تھی اور سرحدی ریاست ہونے کی وجہ سے گورنر راج کا نفاذ ضروری تھا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے ریاست میں صدر راج کے نفاذ پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اس ضمن میں تفصیلی جواب طلب کیا تھی۔


سی آیوایم کوحالت نزع سے نکالے وزارت آیوش

کونسل کے اندربرسوں سے تعینات افسران کوٹرانسفر اورمتحرک کئے بغیرادارہ کوفعال بنانانہیں ہوگا ممکن : ڈاکٹراسلم جاوید 

نئی دہلی۔30جنوری(فکروخبر/ذرائع )طب یونانی کی اہمیت وافادیت کااحساس رکھنے والاباشعور طبقہ فن کی حالت زارپرمایوسی کااظہار کرتے ہوئے عام طورپراس کیلئے حکومت اورسرکاری نظام کوموردالزام ٹھہراتاہے۔یہ اشکال بڑی حد تک درست بھی ہے۔مگرطب یونانی کی تباہ حالی کیلئے دیگروجوہات کے باوصف اہم وجہ یہ بھی ہے کہ فن شریف سے وابستہ لوگوں کوجنہیں طب یونانی کے فروغ وارتقا کی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں اوراس کے عوض انہیں ایک خطیررقم بھی بطورتنخواہ دی جاتی ہے،وہی لوگ تباہی کے سارے تانے بانے تیار کررہے ہیں،یعنی ’’اس گھرکوآگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘۔ جب ذمہ دار افرادہی اپنی ذمہ داریوں سے جی چرانے لگیں توسمجھاجاسکتاہے کہ طب یونانی کے زوال کاسہراکن لوگوں کے سرجاتاہے۔اس سلسلے میں جب حکومت کے زیرانتظام قائم بھاری بھرکم ادارہ سی سی آر یوایم کی جانب دیکھیں تویہ جان کرحیرت زدہ رہ جائیں گے کہ جس ادارہ کوطب یونانی کی ترویج وترقی اورمقبول ومفید بنانے کیلئے تعمیرکیاگیاتھاوہ فن شریف کی عظمت رفتہ کوواپس دلانے کے جتن کیاکرے گا،یہ بدقسمت ادارہ آج خوداپنے وجود کی جنگ لڑرہاہے۔ماضی قریب میں اطباومحققین سی سی آر یو ایم کے سلسلے میں کہاکرتے تھے کہ یہاں طب یونانی کی ترویج وترقی کے کام اب صرف کتابوں میں باقی رہ گئے ہیں،جبکہ یہ عظیم ادارہ اپنے فرائض سے فارغ ہوکرصرف کتابیں چھاپنے کاطباعت خانہ بن کررہ گیاہے۔ اس سے بھی افسوس ناک بات یہ ہے کہ سی سی آریوایم ان دنوں ملازمین اورافسران کے درمیان گروہ بندی کی وجہ سے تنازعات کااڈہ بنتا جارہاہے۔جب اس کی وجوہات کاجائزہ لیاجائے توکئی قسم کی تشویشناک باتیں سامنے آتی ہیں،جوفن عظیم سے محبت کرنے والے اصحاب شعورکیلئے انتہائی اذیت ناک ہے۔بتاتے ہیں کہ سی سی آریوایم میں تعینات افسران چونکہ کام نہ کرنے کہ عادی بن چکے ہیں،لہذاکوئی بھی ایسی بات جس سے انہیں کام کام کرنے کی دقت آسکتی ہو اسے سننابھی گوارانہیں کر تے۔بتایاجاتاہے کہ سا بقہ ڈی جی حضرات کے زمانے میں تساہل کی یہی روایت برقرارتھی اورانہیں کسی نے بھی ترویجی کاموں میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کااحساس نہیں دلایا،لہذا آج جب ذمہ داران وافسران کواپنے فرائض کے تئیں جوابدہ ہونے کااحساس دلایاجاتاہے تو ان کیلئے اناکا مسئلہ کا بن جاتاہے۔ان حالات میں اب ضروری ہوگیاہے کہ سی سی آریوایم کی تطہیرکی جائے اورکام سے لاپرواہ لوگوں سے بازپرس بھی ہونی چاہئے ورنہ پانی سرسے اونچاہوجائے گااورحالات مزیدناقابل تسخیربن جائیں گے۔ان خیالات کا اظہارمسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے صدرڈاکٹرمحمدعمران اورسوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ڈاکٹر(حکیم)اسلم جاویداورریکس ریمیڈیزچیریٹیبل ٹرسٹ (رجسٹرڈ)نے سی سی آریوایم کی تازہ صورت حال پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اپنی مشترکہ پریس ریلیزمیں کیاہے۔طب یونانی کی پسماندگی پرافسوس ظاہرکرتے ہوئے ڈاکٹراسلم جاوید اورمعروف یونانی محقق ڈاکٹرشمس الآفاق کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈی جی ڈاکٹررئیس الرحمن یقیناطب یونانی کی ترویج وترقی کیلئے سچی لگن رکھتے ہیں۔مگرسی سی آریوایم میں کام اورفرائض کوانگوٹھادکھانے والے عہدیداروں کاجتھاروڑابن کرسامنے کھڑاہوگیاہے۔سی سی آرایم کے تقررات کے سسٹم پرسوال اٹھاتے ہوئے ڈاکٹراسلم جاوید نے کہاکہ آخرکیاوجہ ہے یہاں دس دس برس سے تعینات عہدیداران وملازمین کا تبادلہ نہیں کیاجاتا،جبکہ سینٹرل گورنمنٹ کابھی یہ اصول ہے کہ وہ پانچ برس کے اندرافسران کے تبادلے ضرورکردیاکرتی ہے۔مگریہاں طویل مدت سے کسی بھی قسم کاتبادلہ نہیں ہواہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں تعینات لوگوں نے ادارہ کوگروہ بندی کے کنویں میں دھکیل دیاہے۔مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی پریس ریلیز کے ذریعہ حکومت سے بالخصوص وزارت آیوش سے مطالبہ کرتی ہے کہ پہلی فرصت میں مرکزی حکومت کے ضابطہ کے مطابق یہاں جمے ہوئے افسران وملازمین کاتبادلہ کیاجائے ،اس کے لئے وزارت آیوش کوخودذاتی دل چسپی لینی ہوگی ورنہ اپنی سبق آموزتاریخ کے باوجود سی سی آر یو ایم جیسا عہدسازادارہ قصہ پارینہ بن کررہ جائے گا۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES