Print this page

وزیر اعلیٰ سدرامیانے بجٹ کی تیاری شروع کردی(مزید اہم ترین خبریں)

مارچ کے تیسرے ہفتہ میں پیش کشی

بنگلورو۔29جنوری(فکروخبر/ذرائع)وزیر اعلیٰ سدرامیا 2016-17 کے بجٹ کی تیاریوں میں لگ گئے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست کا یہ مالی پرچہ جو سدرامیا اس بار گیارھویں مرتبہ اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں ، دیڑھ لاکھ کروڑ روپیوں سے متجاوز ہوجائے گا۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے بجٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں افسران کے ساتھ میٹنگوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے، اور رواں سال اور اگلے سال مالی وسائل یکجا کرنے کے سلسلے میں افسران کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

رواں سال منصوبہ بند اخراجات کا حجم 72ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ کا رہا۔ وزیر اعلیٰ 2016-17 میں اسے اور بھی بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ ریاستی حکومت کو جن شعبوں سے آمدنی ہوتی ہے ان میں ایکسائز ، کمرشیل ٹیکس ، ٹرانسپورٹ ، اسٹامپ اور رجسٹریشن وغیرہ کے عہدیداروں سے سدرامیا نے طویل بات چیت کی ہے۔ان سے کہا گیا ہے کہ جنوری ، فروری اور مارچ کے دوران زیادہ ٹیکس کی وصولی کا نشانہ مقررکیا جائے ، تاکہ رواں سال بجٹ میں جن منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے، سال کے اختتام تک ان کو تقریباً مکمل کیا جاسکے ۔ سدرامیا مارچ کے تیسرے ہفتے میں بجٹ پیش کرنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر محکمہ کے حکام کو طلب کرکے اگلے سال کے تخمینوں کی ترتیب کا عمل غالباً تین حلقوں کے ضمنی انتخابات اور ضلع اور تعلقہ پنچایتوں کے انتخابات کے فوراً بعد شروع ہو جائے گا۔ 20 فروری سے 10 مارچ تک سدرامیا روزانہ ہر محکمہ کا جائزہ لینے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اور محکمۂ مالیات کی طرف سے تمام محکموں کو ایک سرکیولر بھی جاری کیا جاچکا ہے کہ وہ اگلے سال کے تخمینہ جات اور منصوبے وزیراعلیٰ کو پیش کرنے کیلئے ان تاریخوں سے پہلے تیار کرلیں۔ ریاست میں خشک سالی کی سنگین صورتحال ، قرضے کا بوجھ اور دیگر امور پر بھی افسران سے تبادلۂ خیال کے ساتھ کسانوں کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کیلئے وہ حکمت عملی بھی وضع کرنے والے ہیں۔ بجٹ میں کسانوں کی مدد کیلئے بعض نئی اسکیموں کے اعلان کی بھی توقع کی جارہی ہے۔
تعلیم سے اخلاقیات کی دوری تشویشناک ۔۔ وزیر صحت یوٹی قادر 
بنگلورو۔29جنوری(فکروخبر/ذرائع) وزیر صحت یوٹی قادر نے ملک دشمن سرگرمیوں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے شامل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انجینئرنگ ، میڈیکل جیسی ڈگریاں حاصل کرنے والے نوجوان ملک دشمن سرگرمیوں سے جڑے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم سے اخلاقات کافی دور ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ جیسے ممالک جہاں سیاست اور قانون پیسے کے بنیاد پر چلتے ہیں ۔ہندوستان میں انسانیت اور تہذیب کی بنیاد پر انتظامیہ چلایا جاتا ہے، اس کے باوجود بھی سماج دشمن عناصر اگر ملک میں پنپتے ہیں تو تشویش کی ہی بات ہے، ایسے عناصر کی نشاندہی کرکے ان کی اصلاح کی طرف توجہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئے دن رشوت ستانی کے جو واقعات سامنے آرہے ہیں اس میں بھی تعلیم یافتہ افراد کے شامل ہونے کا رجحان عام ہے۔ 
مایاوتی کی وزیراعظم اور بی جے پی پر سخت تنقید
نئی دہلی ۔29 جنوری (فکروخبر/ذرائع) ہندوستان کی سیاسی جماعت بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور اترپردیش کی سابق وزیراعلی مایاوتی نے وزیراعظم نریندرمودی، مرکز میں حکمراں بھارتیہ جنتاپارٹی اور انتہا پسند ہندووں کی تنظیم آر ایس ایس پر سخت تنقید کی ہے۔ذرائع کے مطابق بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے وزیراعظم نریندرمودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف نریندر مودی سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے دلتوں کے رہنما بھیم راؤ امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کرتے پھر رہے ہیں تو دوسری طرف خود ان کی جماعت اور آر ایس ایس دلتوں کی توہین کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کے خلاف توہین آمیز بیان دینے والے مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے سے ناانصافی بڑھی ہے اور اس کے پیچھے آرایس ایس اور بھگوا تنظیموں کا ہاتھ ہے۔مایاوتی نے کہا کہ حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی حامی بھگوا تنظیموں کے ذریعے پیدا کئے گئے ایسے ہی حالات کی وجہ سے حیدرآباد میں دلت طالب علم روہت ویمولا کو خودکشی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مایاوتی نے کہا کہ اگر اس 
معاملے میں روہت ویمولا کے اہل خانہ کو انصاف نہ ملا تو یہی سمجھا جائے گا کہ لکھنؤ میں ایک تقریر کے دوران وزیراعظم نریندرمودی کا روہت کا نام لے کر جذباتی ہونا سوچی سمجھی سیاسی چال تھی اور ان کے آنسو مگرمچھ کے آنسو تھے