dushwari

بھا رت اقلیتو ں کے لئے خطر نا ک تر ین ملک بن گیا(مزید اہم ترین خبریں)

2014 ء کے مقابلے میں گزشتہ برس ملک میں مسیحیوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف آٹھ ہزا رسے زائد حملے ہوئے۔۔سی ایس ای

نئی دہلی۔23جنوری(فکروخبر/ذرائع) بھا رت اقلیتو ں کے لئے خطر نا ک تر ین ملک بن گیا ،بھارت میں مسیحیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ 2014 ء کے مقابلے میں گزشتہ برس ملک میں مسیحیوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف آٹھ ہزا رسے زائد حملے ہوئے۔سنگین حملوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا اور کم از کم آٹھ مسیحیوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ عیسائیوں کے علاوہ مسلمان ،سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی ہندو انتہا پسندوں کے زیر عتاب ہیں اور آئے روز ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کیتھولک سیکولر فورم (سی ایس ایف) نامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس آزادی کے بعد سے بھارت میں مسیحیوں کے لیے سب سے بدترین سال رہا۔

مسیحیوں اور ان کے اداروں کے خلاف پرتشدد حملوں کی تعداد میں کافی تیزی آئی اور انہیں مجرمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔سی ایس ایف کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں مسیحیوں پر حملے یا انہیں بری طرح ہراساں کرنے کے آٹھ ہزار واقعات پیش آئے۔ ایسے واقعات کا شکار ہونے والوں میں چار ہزار خواتین اور دو ہزار بچے شامل تھے۔ اپنے عقیدے کی تبلیغ کرنے کی پاداش میں مسیحیوں پر کم از کم 365 سنگین نوعیت کے حملے کیے گئے اوران حملوں میں آٹھ مسیحی مارے گئے جن میں سات پادری شامل تھے۔سی ایس ایف کے جنرل سیکرٹری جوزف ڈیاز کا کہنا ہے کہ 2014ء کے مقابلے میں گزشتہ برس مسیحیوں کے خلاف حملوں میں کم از کم بیس فیصد کا اضافہ ہوا۔ جبکہ سنگین نوعیت کے حملوں کی تعداد میں تین گنااضافہ ہوا ہے۔ 2014ء 4 میں ایسے حملوں کی تعداد 120تھی لیکن گزشتہ برس یہ تعداد بڑھ کر 365 ہوگئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسیحیوں اور ان کی تنظیموں کے خلاف سب سے زیادہ حملے وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوئے، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ اس کے بعد تلنگانہ اور اترپردیش کا نمبر ہے۔ چھتیس گڑھ، تامل ناڈو، آندھرا پردیش بھی مسیحیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔ حتٰی کہ دارالحکومت نئی دہلی بھی مسیحیوں کے خلاف حملوں کے لحاظ سے دس سر فہرست صوبوں میں شامل ہے، جہاں پانچ گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور مسیحی پادریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جوزف ڈیاز نے بھارت کے مغربی صوبہ مہاراشٹر کو ’ہندوتوا کی راجدھانی‘ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے گجرات ہندوتوا کی راجدھانی تھی لیکن اب یہ مقام مہاراشٹر نے حاصل کرلیا ہے۔ مہاراشٹر کے شہر پونے میں ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سب سے بڑی ریلی ہوئی تھی جس میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرایس ایس کے ایک کارکن نریندر مہاراج کا دعویٰ ہے کہ اس نے 2015ء4 4 میں دو ہزار مسیحیوں کو دوبارہ مذہب تبدیل کرا کے ہندو بنایا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسیحیوں پر تشدد اور حملوں کے بہت سے واقعات کا پولیس میں اندراج نہیں ہوتا کیوں کہ متاثرین شکایت درج کرانے سے گھبراتے ہیں۔ اس رپورٹ کو صرف ایسے معاملات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے جو پولیس میں درج کرائے گئے تھے۔ جوزف ڈیاز نے کہا کہ تشدد کے بہت سے بھیانک واقعات کو ہم اس رپورٹ میں شامل نہیں کرسکے کیوں کہ پولیس اور سیاست دانوں نے متاثرین کو حملہ آوروں کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے مجبور کردیا تھا۔رپورٹ تیار کرنے میں مدد کرنے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق جج ایم ایف سلدانا نے کہا کہ بھارت میں مسیحیوں کے خلاف ہونے والے پرتشدد جرائم کو بیرونی ملکوں کی حقوق انسانی کی تنظیموں نے بھی نوٹ کیا ہے۔جوزف ڈیازکا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے کارکنوں کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ہیں اور جن علاقوں میں آر ایس ایس کا غلبہ ہے وہاں مسیحیوں کے خلاف تشدد کے واقعات زیادہ پیش آرہے ہیں جب کہ متاثرین کو دھمکی دی جارہی ہے کہ ان معاملات کو پولیس میں درج نہ کرائیں اور نہ ہی میڈیا میں لے کر جائیں۔رپورٹ کے مطابق عیسائیوں کے علاوہ مسلمان ،سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی بھارتی ہندو انتہا پسندوں کے زیر عتاب ہیں اور آئے روز ان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم اس تشدد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔


شمالی ہندشدید دھند کے باعث 35 ٹرینوں کی سروس معطل ، 14 تاخیر کا شکار

نئی دہلی۔23جنوری(فکروخبر/ذرائع) شمالی ہند میں شدید دھند کے باعث 35 ٹرینوں کی سروس معطل جبکہ چودہ تاخیر کا شکار ہو گئیں۔ ملکی خبررساں ادارے کے مطابق شدید دھند کے باعث ملک کے شمالی علاقے میں 35 ٹرینوں کی سروس معطل کی گئی ہے جبکہ چودہ کی سروس تاخیر کا شکار ہوئی۔ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں دھند کا یہ سلسلہ آئندہ دو روز تک جاری رہنے کی پیشگوئی کی ہے 


سڑک کے حادثوں میں ایک ہلاک ،دو زخمی

سرینگر۔23جنوری(فکروخبر/ذرائع) وادی میں سڑک کے مختلف حادثوں میں ایک ہلاک ،دو افراد زخمی ہوئے۔کولگام میں سڑک حادثے میں ایک فگو گاڑی زیر نمبری JK03/4337نے ایک رہگیرگُل محمد ساکن رہپورہ کھڈونی کو ٹکر مار کر زخمی کیاجس کوعلاج ومعالجہ کیلئے ڈسڑکٹ اسپتال منتقل کیاگیاجہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔ اننت ناگ میں سڑک کے ایک حادثے میں بنہ دیلگام کے نزدیک ایک ماروتی گاڑی زیر نمبری JK03D/0912نے ایک رہگیر غلام حسن بٹ ولد عبدال رزاق بٹ ساکن ونپورہ کھڈونی کو ٹکر مار کر زخمی کر لیا جس کو علاج معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔ کپورہ میں سڑک کے ایک اور حادثے میں بی ڈی او افس کرلپورہ کے نزدیک ایک ماروتی زیر نمبری JK01F/5895ایک موٹر سائیکل کے ساتھ ٹکرائی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار زخمی ہوا جس کو علاج معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔


کپوارہ میں لڑکی نے خود کشی کرنے کی کوشش

سرینگر۔23جنوری(فکروخبر/ذرائع) کپوارہ میں ایک لڑکی نے اپنے ہی گھر پر زہریلی شے نوش کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ۔کپوارہ میں ایک لڑکی نے اپنے گھر پر زہریلی شے نوش کر کے اپنی زندگی کے خاتمہ کرنے کی کوشش کی جس کو علاج معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا ۔ پولیس نے ضابطہ ۱۴۱ کے تحت کاروائی شروع کی ۔


منشیات کے خلاف کاروائی جاری تین افراد گرفتار

سرینگر۔23جنوری(فکروخبر/ذرائع) پولیس نے منشیات کے خلاف کاروائی جاری رکھتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر کے پانچ کلو گرام فکی برآمد کر لیا۔ اننت ناگ پولیس نے منشیات کے خلاف اپنی کاروائی جاری رکھتے ہوے تُل کھن بجبہاڑہ سے ایک گاڑی سے پانچ کلو گرام فکی ضبط کر کے تین افراد ریاض احمد ڈار ،روف احمد بٹ ساکن وگہامہ اور منیب فاروق ولد فاروق احمد ساکن با با محلہ کو گرفتار کر لیا ۔پولیس نے کیس درج کر کے مزید کاروائی شروع کی ۔ 


حاجن سوناوری میں جمعہ کی صبح زمین دھنس جانے کا وا قعہ

رابط سڑ ک اور بجلی کے کھمبوں اور درختوں کو نقصان۔قصبہ میں خوف و ہراس کی لہر

سرینگر۔23جنوری(فکروخبر/ذرائع) حاجن سوناوری میں جمعہ کی صبح زمین دھنس جانے کا وا قعہ پیش آ نے کے سبب لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڈ گئی ہے جس کے نتیجے میں ایک رابط سڑ ک اور بجلی کے کھمبوں اور درختوں کو نقصان پہنچا جس کے بعد ایک درجن کے کنبے محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ اس دوران ضلع انتظا میہ اور محکمہ فلڈ کنٹرول کے حکام نے علاقہ کادورہ کرکے لوگوں کو احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔ ذرائع کے مطابق حا جن شیخ محلہ میں جمعہ زمین دھنس گئی اور زوردار آ واز کے بعد لوگ گھروں سے باہر آ گئے ۔ زمین دھنس جانے کے نتیجے میں دریا ئے جہلم کے کنارے سے گذ ر نے والی سڑک کا یک حصہ تباہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے پورے قصبہ میں خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ واقعہ کے بعد اس روڈ پر ٹرافک کی نقل و حرکت بند ہوگئی ہے اور زمین دھنس جانے کی وجہ سے کچھ بجلی کے کھمبے بھی زمین بوس ہوگئے ہیں جسکے سبب بجلی سپلا ئی بھی منقطع ہوگئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق کہ حاجن میں زمین دھنس جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی کئی مقامات زمین دھنس چکی ہے تاہم اسکی طرف آ ج تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔نمائند ے کے مطابق واقعہ کے بعد جائے واردات پر مقیم کنبوں کو احتیاتی طور پرمحفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے ۔ ایک مقامی شہر ی کے مطابق دراصل اس مقام پر دریا ئے جہلم سے متواتر ریت نکالی جاتی ہے جس کے باعث دریا ئے جہلم کا باند ھ کمزوار ہو چکا ہے جس سے قصبہ کے کئی مقامات پر زمین کھسکنے کا زیادہ احتمال ہیں جس سے قصبہ کی کئی بستیوں کی آبادی میں خوف وہراس کی لہر دوڈ گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور ضلع صدر بانڈی پورہ امتیاز احمد پر ے نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے بتایاکہ اس سے قبل قصبہ کی معتدد رابطہ سڑکوں جنہیں زمین دھنس جانے کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ انتظا میہ کو بار بار اس سنگین معاملے کی جانب توجہ مرکوز کرائی گئی ہے لیکن انہوں نے آ ج کو ئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ پورے قصبہ میں زمین دھنس جانے کے واقعات کاخطرہ برقرار ہے۔ انہوں نے انتظا میہ سے اپیل کی کہ وہ اس ضمن میں ماہرین کی ایک ٹیم قصبہ میں روانہ کریں اور زمین د ھنس جانے کے واقعات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھا ئیں۔ دریں اس واقعہ کے بعد ضلع انتظا میہ اور محکمہ فلڈ کنٹرول کے حکام نے علاقہ کادورہ کرکے لوگوں کو احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔ اس دوران دورہ کرنے والے آ فسروں نے جانچ کیلئے مٹی کے نمونے بھی حاصل کئے ہیں۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES