dushwari

تلو جہ سینٹرل جیل میں بے قصور مسلم قیدیوں کے ساتھ جیل انتظامیہ کاغیر منصفانہ رویہ بدستور جاری (مزید اہم ترین خبریں )

افراد خاندان محروسین سے ملا قات کے لئے کئی کئی گھنٹے جیل کے با ہر کھڑے رہنے پر مجبور 

ممبئی ۔21 جنوری (فکروخبر/ذرائع) تلوجہ جیل انتظامیہ کی جا نب سے انڈین مجاہدین سے متعلق جیل میں محروس قیدیوں پر ظلم و ستم اور غیر منصفانہ رویہ بدستور جاری ہے ، کورٹ کے آڈر کے با وجود افراد خاندان سے ملا قات کر نے کی اجازت نہ دینے ،گھر کے کھانے کے لئے سختی سے منع کرنے ،اور جیل میں گنسٹروں کے ساتھ رکھنے جیسے معاملے کو لیکرکیس کی سماعت کے دوران آج سیشن عدالت نے تلوجہ جیل انتظامیہ کو سخت پھٹکار لگائی ہے اور ان سے جواب طلب کیا ہے ۔واضح رہے کہ انڈین مجاہدین معاملے میں تلوجہ جیل میں محروس بے قصور مسلم نو جوانوں کے ساتھ تلوجہ جیل انتظامیہ کی جا نب سے بدستور غیر منصفانہ سلوک جاری ہے ،

یوں توان ملز مین کے لئے ہائی سیکو ریٹی اور انڈا سیل جیسے خصوصی انتظامات متعین ہیں لیکن تلوجہ جیل انتظامیہ جان بو جھ کر انہیں گینگ کے مختلف ممبران کے سا تھ فردا فردا جنرل بیرک میں رکھ رہی ہے جسکی وجہ سے ان پر جان لیوا حملہ یا ان کے قتل کے اندیشے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کیو نکہ ماضی میں قتیل صدیقی نامی بے گناہ کو یروڈا سینٹرل جیل پونہ میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا اور صدیقی کے قتل میں ملوث ملزم موہول کو قصدا تلوجہ جیل میں ہی رکھا گیا ہے ۔عدالت کی اجا زت اور آڈر ہو نے کے با وجودانہیں انکے والدین سے ملنے کی ا جازت نہیں دی جا رہی ہے اور بار بار متعلقہ پولیس اسٹیشن کا تصدیق نامہ طلب کرتے ہوئے گھنٹوں گھنٹوں جیل کے با ہر کھڑے رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور متعلقہ عدالتوں کی جانب سے جاری کردہ احکا مات کو جان بو جھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ جو عدالت کی توہین کے مترادف ہے۔محروس ملزمین کے اہل خانہ نے یہ ساری تفصیلات جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا ندیم صدیقی کے رو برو پیش کی جس پر مولانا ندیم صدیقی نے یقین دلایا کہ صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد حکومت مہا راشٹر کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ انسپکٹر جنرل ( Prison) سے ملا قات کرکے فوری طور پر ہونے والی تکلیفوں سے نجات دلانے کی کوشش کی جا ئے گی نیزتلوجہ جیل انتظامیہ کی جا نب سے عدالتوں کے احکامات کو نظر انداز کئے جا نے پر مولانا ندیم صدیقی نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ ہر حال میں اور ہر مو قع پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر بے قصوروں کو انصاف دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی ۔اس موقع پرعدالت میں ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان اور ایڈوکیٹ عشرت علی خان مو جو د تھے ۔ 


مدارس میں اردو وعربی پر پابندی کا مطالبہ غیردستوری ہے

وزیراعلیٰ شیوسیناکے اس مطالبے پر اپنے موقف کا اظہار کریں: نواب ملک

ممبئی۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)شیوسینا کے اس مطالبے پر کہ مدارس میں اردو وعربی کی تعلیم پر روک لگائی جائے اور اس کی جگہ پر ہندی وانگریزی کی تعلیم دی جائے، راشٹر وادی کانگریس پارٹی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیوسینا کے اس مطالبے پر اپنے موقف کا اظہار کریں۔این سی پی کے صدر دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی ترجمان نواب ملک نے یہ انتہائی خطرناک بات ہے کہ شیوسینا کی جانب سے مدارس میں اردو وعربی پر پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ شاید شیوسینا سربراہ کو یہ بات نہیں معلوم کہ اردو ایک ہندوستانی زبان ہے اور اس نے جنگِ آزادی میں بہت اہم رول ادا کیا ہے اور قرآن عربی میں ہے جسے ریاست کے ۱۷؍فیصد مسلمان پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا ایک ہندوستانی زبان کی جگہ پر غیرملکی زبان لاگو کرنے کا مطالبہ کررہی ہے جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان سے شیوسینا کی کدورت دراصل قرآن کی وجہ سے ہے اور وہ عربی کا سہارا لے کر قرآن پر پابندی کی بات کررہی ہے۔ شیوسینا کو یہ بات صاف کرنی چاہئے کہ اسے عربی زبان سے اتنی چڑھ کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں شیوسینا بی جے پی کے ساتھ حکومت میں شامل ہے ، اس لئے ریاستی حکومت کا سربراہ ہونے کے ناطے وزیراعلیٰ کو شیوسینا کے اس مطالبے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔جناب نواب ملک نے مزید کہا کہ عربی زبان پر پابندی کا مطالبہ شیوسینا کی متعصبانہ ذہنیت کی غماز ہے ۔ وہ صاف طور پر قرآن پر پابندی کی بات تو نہیں کرسکتی اس لئے اس نے عربی زبان پر پابندی کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے دستور نے ہر کسی کو اپنے مذہب پر کاربند رہنے اور اس کی ترویج وتبلیغ کا حق دیا ہے ، اس لئے قرآن پڑھنے کے لئے عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان کا حق ہے۔ اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ غیردستوری ہے۔ ہم اس متعصبانہ و غیردستوری مطالبے کی نہایت شدت سے مذمت کرتے ہیں اور وزیراعلی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس پر اپنے موقف کا اظہار کریں۔


سرینگر سے بارہمولہ تک ریل سروس بحال ،سرینگر سے بانہال سروس دوسرے روز بھی معطل 

سرینگر۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)پلوامہ میں جھڑپ کے دوران ریلوے ٹریک پر احتجاجی مظاہروں کے پیش نظربدھ کو معطل کی گئی ریل سروس اگرچہ جمعرات کو سرینگر سے بارہمولہ تک بحال کی گئی تاہم ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر سرینگر سے بانہال کے درمیان ریل سروس مسلسل دوسرے روز بھی مکمل طورٹھپ ہوکر رہ گئی۔پلوامہ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ فورسز نے منگل کی شب جنگجوؤں کی تلاش میں نائن بٹہ پورہ نامی گاؤں کو محاصرے میں لیا تھا جس کے بعد طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ رات بھر جاری رہا۔بدھ کی صبح جب اس میں شدت پیدا ہوئی تواسی دوران علاقے میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا۔مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے علاقے سے گزرنے والے ریلوے ٹریک پر کاؤٹیں کھڑی کیں اور دھرنا دیکر احتجاجی مظاہرے کئے جس کے باعث حکام نے سرینگر اور بانہال کے درمیان ریل گاڑیوں کی آمدورفت معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ادھر ریلوئے حکام کے مطابق بدھ کو پیش آئے واقعات کے بعد جمعرات کو سرینگر سے بارہمولہ تک ریل سروس کو دوبارہ بحال کیا گیا تاہم ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر سرینگر سے بانہال کی طرف جانے والی ریل سروس کو مسلسل دوسرے روز بند کر دیا گیا ۔پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ یہ اقدام احتیاط کے بطور اٹھایا گیا کیونکہ ریلوے ٹریک ان علاقوں سے گزرتی ہے جہاں امن و قانون کی صورتحال خراب تھی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کے حالات کے دوران ریلوے کی املاک اور مسافروں کی حفاظت کویقینی بنانے میں دشواریاں پیش آئی ہیں جس کے سبب یہ اقدام اٹھانا پڑا۔گئی۔ریل خدمات معطل رہنے کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کومسلسل دوسرے روز بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ریلوے اسٹیشنوں سے مایوس واپس لوٹ آئے۔


دن میں کھلی دھوپ نکلنے اور یخ بست ہوائیوں کی وجہ سے وادی کشمیر میں شدید سردی کی لہر جاری

سرینگر۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)دن میں کھلی دھوپ نکلنے اور یخ بست ہوائیوں کی وجہ سے وادی کشمیر میں شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ادھر صوبائی لیہہ اور کرگل میں رات کا درجہ حرارت منفی 16 ڈگری عبور کر گیااور بدھ اور جمعرات کی رات کرگل میں رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی ۔ادھر محکمہ موسمیات نے آیندہ دنوں کیلئے موسم میں کوئی تبدیلی نہ آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے موسم خشک رہنے کی پیشن گوئی کی ہے۔نمائندے کے مطابق ریاست خاص کر وادی کشمیر اور صوبائی علاقے لہہہ اور کرگل میں سردی کی شدید لہر نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے جبکہ دن میں دھوپ نکلنے اور یخ بستہ ہوائیوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ شب سرینگر شہر میں سرد ترین رات رہی کیونکہ درجہ حرارت منفی 4.3 ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیاجبکہ دن کا درجہ حرارت 11.4ڈگری سلشس ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ دن کے درجہ حرارت سے کئی ڈگری اوپر ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پہلگام میں اس سے زیادہ سردی رہی کیونکہ یہاں درجہ حرارت منفی 7.3ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا جبکہ موسمیاتی ماہرین کے مطابق وادی میں گزشتہ رات سیاحتی مقام گلمرگ میں درجہ حرارت منفی 5.7 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ شب لیہہ میں درجہ حرارت منفی 16ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیاجبکہ گزشتہ رات کرگل میں رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی جہاں درجہ حرارت منفی 16.4ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا۔ ادھر محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں موسم میں تبدیلی نہ آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے آیندہ کچھ دنوں کیلئے موسم خشک رہنے کی پیشن گوئی ہے۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں ۔


مہاراشٹر کی ۲۰ فیصد جنگلات کی زمین بابا رام دیو کے ذریعے ہڑپنے کی بی جے پی کی کوشش

بی جے پی کی اس غیرقانونی فیصلے کے خلاف ہم اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے: نواب ملک 

ممبئی۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع) مہاراشٹر میں ۲۰ فیصد زمین جنگلات کی ہے اور بی جے پی نے بابا رام دیو کے ذریعے اسے ہڑپنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ سنسنی خیز الزام آج راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان نواب ملک نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کل ریاست کے وزیرجنگلات نے بابا رام دیو سے ملاقات کئے اور اس کے بعد یہ اعلان کیا کہ ریاست کی ۲۰ فیصد ( تقریباً ۶۰ ہزارمربع کلومیٹر)جنگلات کی زمین آیورویدک ادویات کی پیداوار کے لئے بابا رام دیو کے پتانجلی کمپنی کو دیئے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ قانوی اعتبار سے جنگلات کی زمین کسی ذاتی شخص یا ادارے کو نہیں دیا جاسکتا ۔ لیکن وزیرجنگلات بابا رام دیو کی محبت میں یہ زمین ان کی کمپنی کو دینے کا فیصلہ کررہے ہیں۔ وہ خود کو ’موگلی‘ سمجھ رہے ہیں کہ پورا جنگل پر ان کا اختیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں آیوردیک شعبے میں کام کرنے والی تقریباً دس کمپنیاں ایسی ہیں جنہیں سیکڑوں برسوں کا تجربہ ہے ۔ ڈابر ۱۸۸۴ء، ہمدرد ۱۹۰۶، بیدھناتھ ۱۹۱۷، جھنڈو ۱۹۱۰، ہمالیہ ۱۹۳۰، چرک ۱۹۴۷، ویکو ۱۹۲۵ اور ایمامی ۱۹۷۴ میں قائم ہوئی ہیں اور انہیں برسہا برس کا تجربہ ہے۔ جبکہ بابا رام دیو کی پتانجلی ۲۰۰۶ میں قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیورویدک ادویات کے فروغ کے لئے ان سب کمپنیوں کو چھوڑ کر پتانجلی کو فوقیت دینا کسی نہ کسی طور پر بابا رام دیو کو بی جے پی سے قربت کا فائدہ پہونچانے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اگر آیوردیک ادویات کا فروغ ہی مقصد ہے تو اس کے لئے ایک جامع پالیسی بنائی جانی چاہئے جس کے ذریعے کمپنیوں سے ٹینڈر وصول کئے جائیں، جو کمپنی سرکاری خزانے میں زیادہ رقم دینے پر رضامند ہو ، اسے یہ کام دیا جانا چاہئے۔ مگر یہاں تمام قوانین واصول واضوابط کو بالائے طاق رکھ کر بابا رام دیو 
کی پتانجلی کو ۲۰ فیصد جنگلات کی زمین دینے کا فیصلہ کیا جارہا ہے جو کسی بھی اعتبار ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیرجنگلات کے ذریعے یہ فیصلہ دراصل بی جے پی کی ۲۰ فیصد جنگلات پر اسی طرح قبضہ کرنے کی کوشش ہے جس طرح شہر کی کھلی زمینوں کو شیوسینا ہتھیانے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی حکومت کے اس غیرقانونی فیصلے کے خلاف ہم اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے اور اگر پھر بھی یہ ممکنہ فیصلہ رد نہیں کیا جاتا تو ہم سڑکوں پر بھی اتریں گے اور عدالت کا بھی دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔


انگریزی کو لے کر بی جے پی اور پاریکر پر بھڑکا سنگھ ، ریاست گیر مہم چھیڑنے کی دی دھمکی

پناجی۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع) آر ایس ایس کی گوا یونٹ کے سربراہ سبھاش ویلنگکر نے بدھ کو ہندوستانی زبانوں کے مقابلے انگریزی زبان کے تئیں جھکاو پر ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت اور وزیر دفاع منوہر پاریکر کو نشانے پر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی زبانوں کے ساتھ ریاست میں دھوکہ کیا گیا ہے۔ ویلنگکر نے کہا کہ ان کی قیادت میں علاقائی زبانوں کا مورچہ جلد ہی ریاست گیر تحریک چھیڑے گا اور گوا کے لوگوں کو بتائے گا کہ زبان کے معاملے پر پاریکر اور بی جے پی کے رخ میں تبدیلی کے کیا نقصان ہوں گے۔ریاست میں آر ایس ایس کا چہرہ مانے جانے والے ویلنگکر نے بی جے پی کارکنوں سے کہا کہ وہ منوہر پاریکر کے ذریعہ بھارتی بھاشا سرکشا منچ کی ملاقاتوں میں شامل نہ ہونے کے حکم کو نہ مانیں۔ پاریکر نے پیر کو ریاستی بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں کی میٹنگ میں یہ بات کہی تھی۔ ویلنگکر نے کہا کہ ریاست میں اسکولوں میں تعلیم کے ذریعے کے طور پر انگریزی پر علاقائی ہندوستانی زبانوں کو ترجیح دینے کے وعدے پر پاریکر اور بی جے پی نے یو ٹرن لے لیا ہے، ہم ایک ریاست گیر عوامی بیداری مہم سے اس کو بے نقاب کریں گے، لوگوں کو ان دونوں کے ذریعہ کئے گئے دھوکہ سے آگاہ کرائیں گے۔ریاست میں تعلیم کے ذریعے کو لے کر گزشتہ کچھ سالوں میں رومن کیتھولک چرچ کی حمایت یافتہ رائٹس آف چلڈرن ٹو ایجوکیشن اور آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتی بھاشا سرکشا منچ کے درمیان ٹھنی ہوئی ہے۔ رائٹس آف چلڈرن ٹو ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ تعلیم کا ذریعہ انگریزی ہونا چاہئے، جبکہ، آر ایس ایس کے منچ کا کہنا ہے کہ یہ مقامی زبانوں میں ہونا چاہئے۔


دارالحکومت دہلی میں پندرہ دن کی طاق وجفت مہم پر خرچ ہوئے 20 کروڑ

نئی دہلی۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع) دہلی کی کیجریوال حکومت نے 15 دنوں تک طاق وجفت مہم کو کامیاب بنانے کے لئے خاصی رقم خرچ کی ہے۔ اس مہم میں دہلی حکومت کے 20 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ رقم پبلک ٹرانسپورٹ کو بڑھانے کے لئے کرایہ کی بسوں میں خرچ ہوئی۔ ان بسوں پر 14 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔جبکہ 3.5 کروڑ روپے شہریوں کے تحفظ کے لئے رضاکاروں پر خرچ کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق تقریبا چار کروڑ روپے اس مہم کو لے کر اشتہارات پر خرچ ہوئے ہیں۔ 3 کروڑ روپے اس کے پروموشن پر اور ایک کروڑ روپے دہلی کے عوام کا شکریہ ادا کرنے سے متعلق اشتہارات پر خرچ کئے گئے۔بتا دیں کہ آلودگی کم کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے کیجریوال حکومت نے 1 سے 15 جنوری تک طاق وجفت فارمولہ لاگو کیا تھا۔ اس کے تحت جفت تاریخ پر جفت نمبر کی کار اور طاق تاریخ پر طاق نمبر کی کار کو ہی دہلی میں چلنے کی اجازت تھی۔ عام آدمی پارٹی حکومت کی طرف سے دعوی کیا گیا کہ اس سے آلودگی کی سطح میں خاصی کمی آئی۔


مجرم نشام کو عمر قید اور 70 لاکھ جرمانہ کی سزا 

دروازہ دیر سے کھولنے کی وجہ سے سر پر ڈنڈے برسائے تھے

نئی دہلی۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)اپارٹمنٹ کا دروازہ دیر سے کھولنے پر بھارتی تاجر نے گارڈ کی زندگی کا خاتمہ کردیا۔2014 میں ہوئے قتل کے مجرم کو آج عمر قید کی سزا سنا دی گئی ۔پیسوں کی چکا چوند نے ہر چیز بھلا ڈالی ، کیرالہ میں دولت کے غرور میں مبتلا تاجر نشامنے دروازہ دیر سے کھولنے پر گارڈ پر اپنا سارا غصہ نکالا۔گاڑی سے ٹکر مارنے کے بعد بھارتی تاجر نے گارڈ چندر بوس پر ڈنڈے بھی برسائے ۔زخمی گارڈ کو اسپتال پہنچایا گیا،جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔دو سال قبل ہوئے قتل پرعدالت نے گزشتہ روز مجرم نشام کو عمر قید اور 70 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی ہے،جرمانے کے 70 لاکھ میں سے 50 لاکھ گارڈ چندر بوس کی فیملی کو دیئے جائیں گے۔بھارتی تاجر اس سے قبل بھی 11 مختلف مقدمات میں ملوث پایا گیا ہے ۔ مقامی حکومت کی جانب سے نشام کو بچانے کی پوری پوری کوشش کی گئی ، لیکن عدالت نے گارڈ کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔


میں مودی جی کو مشورہ دینا چاہتا ہوں، طالب علموں سے پنگا مت لینا: کیجریوال

نئی دہلی۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع) حیدرآباد یونیورسٹی میں دلت تحقیق طالب علم روہت ویملا کی خودکشی کے معاملے میں طالب علموں کی تحریک آج پانچویں دن بھی جاری ہے. اس معاملے پر سیاست تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے. کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی سمیت تمام رہنماؤں کے حیدرآباد یونیورسٹی پہنچنے کے بعد آج دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کیمپس پہنچے. یہاں کیجریوال مظاہرین طالب علموں سے ملاقات کی. اس کے علاوہ وہ روہت کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کریں گے.
کیجریوال نے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عینی گواہ کا کہنا ہے کہ کوئی مار پیٹ نہیں ہوئی ہے. لیکن دو دن بعد سشیل ہسپتال میں ایڈمٹ ہو جاتے ہیں. کندھے کے اوپر کچھ خروچ کے نشانات ہیں. اچانک دتاتریہ جی آتے ہیں، میموری ایرانی کو خط لکھتے ہیں. ملک مخالف، نسل پرست کہتے ہیں، انتہا پسند کہتے ہیں. اسی طرح یہاں کی کمیٹی کہتی ہے کہ کوئی جھگڑا نہیں ہوا. وائس چانسلر تبدیل، نئے وائس چانسلر کارروائی کرتے ہیں، طالب علموں کو باہر کر دیا جاتا ہے. سشیل کمار ہائی کورٹ میں جاتے ہیں، کی حفاظت کے لئے. حلف نامہ میں رجسٹرار کہتے ہیں کہ یہاں کوئی مارپیٹ نہیں ہوئی.
کیجریوال نے کہا کہ اسمرتی ایرانی کا بیان شرمناک ہے. اسمرتی ایرانی اور بڈارو دتاتریہ پر کارروائی ہو. مودی جی دونوں کو عہدے سے حذف کریں. وائس چانسلر کو بھی فوری طور پر یونیورسٹی سے نکالا جائے. اسمرتی ایرانی پر بھی ایف آئی آر درج ہو. اسمرتی ایرانی، دتاتریہ اور وائس چانسلر کی کال ریکارڈ کی جانچ ہو. جھوٹ کے لئے ملک سے معافی مانگیں اسمرتی ایرانی.
کیجریوال نے کہا کہ میں اپیل کرتا ہوں کہ یہ ان کی غنڈہ گردی ہے، اسے برداشت نہیں کرنا. میری حکومت کے چار ممبران اسمبلی کو گرفتار کر لیا. امبیڈکر جی پر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو آپ دہلی میں خوش آمدید. ہم نے ہمیشہ ریزرویشن کے حق میں ہیں.
کسی کے ساتھ بھی ناانصافی ہوتی ہے تو وزیر کی ذمہ داری ہے کہ انصاف دلائے. اس پورے معاملے میں گزشتہ دو سال سے بی جے پی حکومت کا جو رویہ رہا ہے، یہ پارٹی کسی کے ساتھ نہیں ہے. ہندوؤں کے ساتھ بھی نہیں ہے، مسلمانوں کے ساتھ بھی نہیں ہے. آپ روہت کے خط پڑھیں، غریب خاندان سے تھا وہ، دلتوں کے ساتھ ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا.
ہمارا مطالبہ ہے کہ وائس چانسلر کو باہر کیا جائے، اسمرتی ایرانی جی نے جو جھوٹ بولا ملک سے معافی مانگیں. وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ دونوں وزراء کو باہر کریں. ایف آئی آر میں تو دتاتریہ جی کا نام ہے، میری مطالبہ ہے کہ اسمرتی ایرانی کے خلاف بھی کارروائی ہو ایف آئی آر کی بنیاد پر فورا کارروائی ہو، گرفتاری ہو. میں مودی جی کو مشورہ دینا چاہتا ہوں، طالب علموں سے پنگا مت لینا.
روہت کی موت پر سیاست گرم ہے. اسے لے کر پورا اپوزیشن مرکزی حکومت پر حملہ آور ہے. مسلسل حملوں کے درمیان اسے لے کر انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر اسمرتی ایرانی نے کل صفائی دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کو دلت بمقابلہ غیر دلت سے نہ جوڑا جائے.
مرکزی وزیر بڈارو دتاتریہ نے صفائی دی کہ انہوں نے روہت کو معطل کرنے کے لئے یونیورسٹی پر دباؤ نہیں ڈالا تھا. اسمرتی ایرانی نے کہا کہ اس مسئلے کو نسل کا رنگ دینے کا گھنونا کوشش کی گئی ہے. حقیقت یہ ہے کہ یہ ذات پات کا مسئلہ نہیں ہے. اس معاملے کو غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے.


دلت طالب عالم روہت ویمولا کو خودکشی پر مجبور کرنے والوں

کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اے ایم یو اولڈ بوائز ۔الومنائی 

نئی دہلی، 21جنوری (فکروخبر/ذرائع) حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی کے ذہین ریسرچ اسکالرروہت ویمولا کو خود کشی پر مجبور کرنے کے لئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مرکزی وزیر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کے صدر ارشاد احمد اور اے ایم یو الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمان نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں آخر کب تک دلتوں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری رہے گا۔مسٹر احمد نے کہا کہ دلتوں کے ساتھ آزادی کے بعد بھی مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور بہت سے علاقے میں اس وقت بھی دلتوں کو اونچی ذات کے لوگوں کے سامنے بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے نظام کی خامیاں ہیں کہ ہم نے اب تک انہیں مساوی درجہ نہیں دیا ہے جب کہ ہندوستان کا آئین سب کو مساوی درجہ دیتا ہے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کی تلقین کرتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کو مکتوب خط میں سوال اٹھایا کہ آخری ایک وزیر کی شکایت پر حیدرآباد کے مرکزی یونیورسٹی کو چھ ریمائنڈر کیسے بھیجے گئے جس کی وجہ سے وائس چانسلر روہت ویمولا کے ساتھ پانچ دیگر دلت طلبا کو معطل کردیا تھا۔انہوں نے کہاکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب کسی دلت طالب علم کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ اس یونیورسٹی میں اب تک سات دلت طلبا خودکشی کرچکے ہیں۔ اس سے انتظامیہ کا دلتوں کے تئیں سلوک کا پتہ چلتا ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمان روہت ویمولا کی خودکشی نے مرکزی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کا دلت مخالف چہرہ سامنے لادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہت ویمولا کو مسلسل پریشان کیا جارہا تھا جس کی وجہ سے انہیں خودکشی پر مجبور ہونا پڑا۔ اگر فروغ انسانی وسائل کی وزارت کا ریمائنڈر اور ایک مرکزی وزیرکا دباؤ نہ ہوتا ویمولا آج زندہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جب سے مرکز میں مودی حکومت آئی ہے اس وقت سے دلتوں، اقلیتوں اور کمزور طبقوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔
مسٹر رحمان نے کہا کہ ویمولا کا قصور یہی تھا کہ وہ ہر ظلم کے خلاف لڑتا تھا خواہ اس کا کوئی شکار کوئی بھی ہوا ہو۔ انہوں نے مظفر نگر فسادات پر اگست 2015 میں ایک دستاویزی فلم ’’مظفرنگر باقی ہے‘‘کی نمائش کی تھی جس کی وجہ سے سنگھ پریوار اور اس سے وابستہ تنظیم ویمولا کو پریشان کر رہی تھی اور ان لوگوں کی نظروں میں کانٹے کی کھٹک رہا تھا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دلتوں اور مسلمانوں پر مظالم بند کئے جائیں اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروئی کی جائے۔اسی کے ساتھ مسٹر رحمان نے مسلم تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ دلتوں کے حق میںآواز اٹھانے کے لئے آگے آئیں اور ہر صورت میں دلتوں کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر ان پرہونے والے مظالم کے خلاف بھی کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔


حکومت ایک طرف ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف ملک کو تقسیم کرنے کی حرکتیں کرتی ہے :ڈیرک اوبرائن

حیدرآباد۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع )حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت ریسرچ اسکالر کی خودکشی پر رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کی قیادت میں ترنمول کانگریس پارٹی کے وفد نے معطل احتجاجی طلبہ سے ملاقات کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیں۔ ڈیر ک نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو خط مرکزی وزیر کی جانب سے لکھا گیا اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ریسرچ اسکالر روہت نے خودکشی نہیں کی ہے بلکہ دراصل یہ ان کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتی ہے دوسری طرف ملک کو تقسیم کرنے کی حرکتیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کو تقسیم کررہی ہے۔ انہوں نے بھوک ہڑتالی طلبہ سے بھی ملاقات کرتے ہوئے یگانگت کا اظہار کیا اور طلبہ سے متحد رہنے کی اپیل کی۔ ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ وہ یہاں پر تصویر کھچوانے کیلئے نہیں آئے ہیں بلکہ جو واقعہ پیش آیا ہے اس پر طلبہ سے ہمدردی کے اظہار کیلئے آئے ہیں۔


یونیورسٹیوں کو مرکزی حکومت ہندو راشٹر کے مطابق تبدیل کرنا چاہتی ہے :سیتا رام یچوری

حیدرآباد۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع )سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی خودکشی کا سبب بننے والے حالات کیلئے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے دو مرکزی وزرا کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے آج یونیورسٹی پہونچ کر معطل احتجاجی طلبہ سے ملاقات کرتے ہوئے یگانگت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو سیاسی نکتہ نظر سے مرکزی حکومت ہندو راشٹر کے مطابق تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستور کی خلاف ورزی ہے اور اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک یونیورسٹی میں 12طلبہ نے خودکشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تقرری ہی مشکوک طور پر کی گئی اور یہ معاملہ بالکل سیاسی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن حالات میں وائس چانسلر کو مقرر کیا گیا ہے وہ بھی ایک تنازعہ کا سبب بنا ہے۔


پاکستانی یونیورسٹی میں حملے میں طلباء کی موت پر ممتا بنرجی کا اظہار افسو س

کلکتہ۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع )مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پاکستان کی ایک یونیورسٹی میں دہشت گردانہ حملے طلباء کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے ٹوئیٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بچہ خان یونیورسٹی پاکستان میں دہشت گردانہ حملے میں کئی طلباء ہلاک ہوگئے ہیں۔بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے بچہ خان یونیورسٹی میں دہشت گردانہ حملے میں 20افراد ہلاک اور 50سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔


راجستھان وقف بورڈ کا الیکشن 5فروری کو

جے پور۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع ) راجستھان مسلم وقف بورڈ کے اراکین کا انتخاب اب 20فروری کو ہوگا۔ریاستی حکومت نے ایک ترمیم شدہ نوٹیفیکیشن جاری کرکے آج ہونے والے ان انتخابات کو اب پانچ فروری کومنعقد کرانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔


روپیہ 28 ماہ بعد 68 روپے فی ڈالر سے نیچے 

ممبئی۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع )شیئربازار میں زبردست گراوٹ اور بینکوں اور تیل درآمد کاروں کی ڈالر کی خرید سے آج بین بینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپیہ 03 ستمبر 2013 کے بعد پہلی بار 68 روپے فی ڈالر سے نیچے پہنچ گیا۔منگل کو تین پیسے کی تیزی کے ساتھ 67.65 روپے فی ڈالر پر بند ہونے والا روپیہ 20 پیسے ٹوٹ کر 67.85 روپے فی ڈالر پر کھلا۔ آغاز میں ہی 67.84 روپے فی ڈالر کے دن کی سب سے اونچی سطح کو چھونے کے بعد یہ 68.07 روپے فی ڈالر تک پھسل گیا۔ بعد میں کچھ واپسی کرتے ہوئے یہ 68.04 روپے فی ڈالر پر رہا۔کاروباریوں نے بتایا کہ گھریلو اسٹاک مارکیٹ کے دو فیصد سے زیادہ پھسلنے سے روپے کی قدر میں گراوٹ درج کی گئی۔ تاہم، دنیا کی دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے ڈالر کی نرمی سے اس گراوٹ پر کچھ قدغن لگی۔


دلت طالب علم کی خودکشی سے مایاوتی افسردہ

لکھنؤ’۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع)بہوجن سماج پارٹی کے سربراہ مایاوتی نے حیدرآبادمیں یونیورسٹی کے ایک دلت اسکالر کی خودکشی پر انتہائی غم کا اظہارکرتے ہوئے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔محترمہ مایاوتی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے ملک میں دلتوں کو انصاف ملنا اور بھی مشکل ہوگا۔ خیال رہے کہ حیدرآباد میں ایک یونیورسٹی کے دلت طالب علم روہت ومولا کے خودکشی کرلینے کے بعد ملک بھر میں سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ بی ایس پی صدر نے کہا کہ بالخصو ص دلت اسکالر روہت ومولا کے تئیں یہ رویہ کہ‘‘اگر تم بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف ہو تو ہمارے دشمن ہو اور تمہیں سرکاری ذرائع سے ستایا جائے گا ’’ انتہائی قابل مذمت اورانتہائی غیر جمہوری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکت سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کی مخالفت کرنے والے دلت’ پسماندہ اور دیگر ذاتوں کو انصاف ملنا مشکل ہے۔ محترمہ مایاوتی نے پارٹی کے راجیہ سبھا رکن ویر سنگھ کی قیادت میں ایک وفد متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لئے حیدرآباد بھیجا ہے۔


قاتل باپ و بیٹے سمیت تین ملزموں کوعمرقید

آگرہ۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع ) اتر پردیش میں آگرہ کی ایک عدالت نے ساڑھے 13 سال پہلے ایک عورت کے قتل کے معاملے میں باپ و بیٹے سمیت تین ملزموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ استغاثہ کے مطابق جیت پور قصبہ کا باشندہ امیش بابو ، اس کے والد شو کمار شرما اور رویندر عرف کلو نے مکان پر قبضے کے تنازع کی وجہ سے 6 جون 2002 کو اپنی پڑوسن نہاریکا کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ معاملے کی سماعت کے بعد خصوصی جج اشونی ترپاٹھی نے عدالت میں ان تینوں کو قاتل قرار دیتے ہوئے کل شام عمرقید کی سزا سنائی ہے۔


کرکٹر بھونیشور کے والد سے ۸۵لاکھ کا فراڈ، ملزمان میں خواتین سپاہی بھی

میرٹھ۔21جنوری(فکروخبر/ذرائع )کرکٹر بھونیشور کمار کے والد نے ایک ہی خاندان کے چار افراد پر پیسے لے کر زمین کی رجسٹری نہ کرنے کا الزام لگایا ہے. ملزمان میں دہلی پولیس کی ایک خاتون سپاہی بھی شامل ہے.
کس کس کے خلاف درج ہوا کیس ...
۔ بھونیشور کے والد کرپال سنگھ نے میرٹھ کے گنگا نگر تھانے میں کیس درج کرایا ہے.
۔ ایس ایس پی ڈی کے دوبے نے بتایا کہ رنویر سنگھ، اس کی بیوی دیودری، بیٹے اروند اور بیٹی پیارا، دلکش پر کیس درج ہوا ہے.
۔ ملزم پیارا، دلکش دہلی پولیس میں سپاہی ہے. اس گرفتار کرنے کے لئے دہلی کے پولیس کمشنر کو لیٹر لکھا گیا ہے.
۔ کرپال کے مطابق، انہوں نے بلند شہر کے رنویر سے 85 لاکھ روپے میں 25 بیگھہ زمین کا سودا کیا تھا.
ملی تھی جان سے مارنے کی دھمکی
۔ اس سے پہلے گزشتہ سال اگست میں کرکٹر بھونیشور اور ان کے والد کو زمین کی خرید و فروخت کے معاملے میں ہی جان سے مارنے کی دھمکی ملی تھی.
۔ میرٹھ پولیس نے کیس درج کر اس معاملے کی جانچ کی تھی.

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES