dushwari

یوپی: اسلامک اسٹیٹ کا مقابلہ کرنے کے نام پر ہندو تنظیموں کی اسلحہ ٹریننگ (مزید اہم ترین خبریں)

کمسن بچوں کو بھی ٹریننگ: عام عوام نے دہشت سے تشبیھ دے دی

میرٹھ / لکھنؤ۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع) بھارت میں آئی ایس آئی ایس سے نمٹنے کے لئے ہندو سوابھیمان سینا ایک 'مذہب فوج' بنا رہا ہے. اس کا خیال ہے کہ 2020 تک آئی ایس ویسٹ یوپی کو اپنے قبضے میں لے لے گا. اس سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات ابھی سے اٹھائے جانے چاہئے.۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، یہ کیمپ ویسٹ یوپی کے سب سے سینسیٹو علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں.۔ رپورٹ میں ہندو فوج کے لیڈرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ،پندرہ ہزار لوگ پہلے سے ہی سیکورٹی اور آئی ایس سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں.

۔ اس فوج کو وشو ہندو پریشد، درگا واہنی اور ہندو خود داری جیسی تنظیمیں بنا رہے ہیں.۔ فوج میں بچوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے. کچھ کی عمر 10 سال سے بھی کم ہے.۔ تمام باڑ، بندوق کے ساتھ دوسرے رمس چلانا سکھایا جا رہا ہے.۔ غازی آباد کے ڈاسنا میں بنے ایک مندر میں اس آرگنائزیشن کا مرکز ہے. ذرائع کے مطابق اس کے لیڈر یہیں ملتے ہیں.۔ رپورٹ کے مطابق، ان لیڈروں کا دعوی ہے کہ کیمپ کی تعداد بڑھ رہی ہے.
۔ فی الحال 50 کیمپ ہیں، جن میں سے کچھ خفیہ ہیں ۔ ان لڑکے اور لڑکیوں کو تربیت دی جا رہی ہے.
میرٹھ میں تین اورمظفر نگر مؤمیں پانچ کیمپ
۔ ہندو خود داری تنظیم کے ایک رہنما کے مطابق، جو لوگ یہاں ٹریننگ لے رہے ہیں، ان کی عمر 8 سے 30 سال کے درمیان ہے.
۔ "سب سے پہلے ٹریننگ لے رہے لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے. اس سے کس طرح نمٹنا ہے؟ پھر انہیں رمس چلانا سکھایا جاتا ہے."
۔ ایک دوسرے لیڈر کے مطابق، دو سال میں 15،000 لوگوں کو ٹریننگ دی گئی ہے.
۔ میرٹھ میں تین اور مظفرنگر میں پانچ کیمپ چل رہے ہیں.
پولیس کو خبر نہیں
۔ میرٹھ زون کے آئی جی آلوک شرما کے مطابق، انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں. انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اے?ٹوٹ? کو لے کر کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے. انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے.


’ہندو سوابھیمان‘ کی کھلے عام اسلحہ ٹریننگ دہشت ناک اور سماج کو توڑنے والی

نئی دہلی، 20جنوری(فکروخبر/ذرائع) ریاست اترپردیش میں آئی ایس آئی (IS)سے مقابلے کے لیے ’ہندوسوابھیمان‘ نامی تنظیم کے ذریعہ کھلے طور پر اسلحہ ٹریننگ دیے جانے پر آل انڈیا ملی کونسل نے اپنی سخت تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے اسے دہشت ناک بتایا اور کہا کہ یہ گڈگورننس کے خلاف اور سماجی تانے بانے کو توڑنے کی زبردست سازش ہے۔ملی کونسل جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے پریس بیان میں کہا ایک طرف تو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ یہ بیان دیتے ہیں کہ ملک میں آئی ایس کا کوئی وجو دنہیں ہے تو ہندو سوابھیمان کی جانب سے اس طرح کی ٹریننگ دینے کا مطلب کیا ہے؟ یہ ٹریننگ کس لیے دی جارہی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ملک کے تحفظ کے لیے فوج اور پیراملٹری فورس موجود ہے جو آج بھی مضبوط ہے اور دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے کیا اس پر اعتماد کمزور ہوگیا ہے جو ہندو سوابھیمان کی جانب سے یہ ٹریننگ دی جارہی ہے۔ صوبائی او رمرکزی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کیا ان کے خلاف اس لیے کارروائی نہیں کی جارہی ہے کہ ان کا تعلق آر ایس ایس سے ہے۔ دارالعلوم دیوبند جو ایک کھلی کتاب ہے اس پر آئی ایس کو بڑھاوادینے کا الزام لگانے والوں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے۔ جس طرح الزام لگایاجارہا ہے اس سے نفرت کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی جانب سے خانہ جنگی کی دھمکی دی جارہی ہے ایسی صورت میں ہماری امیج دنیا میں کیا بنے گی اور کیا بیرونی سرمایہ کار یہاں آئیں گے۔ کیا یہ ملک آگے بڑھ سکے گا اور کیا وزیر اعظم نریند رمودی کی معاشی اسکیمیں جیسے ’میک ان انڈیا‘، ’اسٹارٹ اپ انڈیا‘ ودیگر میں رنگ بھرا جا سکے گا یا پھر یہ عناصر ملک کو مزید پیچھے ڈھکیلنے میں کامیاب ہوں گے۔
ڈاکٹر عالم نے اترپردیش کی صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور سماج کو بانٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتہا پسندی کسی بھی سماج کے لیے ناسور ہے اور اگر وقت رہتے اس پر پابندی نہیں لگائی گئی تو اس کا نقصان صرف اقلیتوں کو نہیں بلکہ پورے ملک کو اٹھانا پڑے گا۔


پرندوں کے کمبھ میں شکاریوں کی دہشت گردی

مہمان پرندوں کے ساتھ دیسی پرندوں کی الوارا جھیل میں بسی ایک نئی دنیا میں شکاریوں کی دہشت گردی کا سایہ منڈرانے لگا ہے شکاریوں کے ناپاک مصوبوں سے غیر ملکی پرندوں کی جان پر بن آئی ہے. شکاری ان پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے ہیں. روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں سابیرین پرندوں کا شکار کرتے ہیں. پرندوں کے گوشت کی اسمگلنگ بھی بڑے پیمانے پر شروع ہو گئی ہے۔کئی سو بیگھے میں بنی اس جھیل میں ان پرندوں کے آنے کا کوشامبی کے لوگوں کو بے صبری سے انتظار رہتا ہے. شکاری بھی ان کی آمد کو لے کر بے قرار رہتے ہیں. بیزبان پرندے جھیل کی زینت ہیں لیکن شکاریوں کے لئے ان غیر ملکی مہمانوں کا گوشت ان کی دولت کمانے کا ذریعہ بن گیا ہے. سابیرین پرندوں کے گوشت کھانے کا شوق بہت ہیں. شکاری انکا بڑے پیمانے پر روزانہ شکار کرتے ہیں. پہلے گولی سے ان کو مارا جاتا تھا لیکن بندوق کے شور سے پرندوں کے اڑ جانے کا خطرہ زیادہ رہتا تھا. اس لئے اب ایئر رائفل کا استعمال ہو رہا ہے. گاؤں کے لوگ مارنے کے لئے اب کیڑے مار پاؤڈر استعمال کر رہے ہیں. جس کی وجہ سے صبح جھیل میں روزانہ ??۔??پرندوں کی لاشیں تیرتی ہوئی ملتی ہیں۔
سابیر?ن پپرندوں کا شکار اور ان کی اسمگلنگ نے تیزی پکڑی تو علاقائی لوگوں کی زبان بھی مخالفت کے سر میں بولنے لگی. ضلع کے کونے کونے میں ان کا گوشت اسمگلنگ کر فروخت کیا جا رہا ہے. ان پرندوں کی حفاظت کی ذمہ دار محکمہ جنگلات کی ہوتی ہے لیکن محکمہ جنگلات کے ملازم کبھی جھیل کی طرف رخ نہیں کرتے. نتیجے کے طور پر غیر ملکی پرندوں کا شکار بے خوف ہو رہا ہے | اس معاملے پر کوشامبی کے جنگل افسر رام دیو پانڈے کے مطابق پرندوں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے ایکفاریسٹر اور دو فارسٹ گارڈ کی ڈیوٹی مسلسل لگے گئی ہے۔


کروڑ پتی تاجر پر اپنے ذاتی محافظ کے قتل کی فرد جرم عائد

نئی دہلی ۔ 20 جنوری (فکروخبر/ذرائع) کیرلا میں ذاتی محافظ کے قتل میں ملوث کروڑ پتی کاروباری شخص پر فرد جرم عائدکر دی گئی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی جنوبی ریاست کیرالا میں ایک عدالت نے 39سالہ کروڑ پتی شخص نشام پر اپنے ہی گارڈ کو قتل کرنے کی فرد جرم عائد کر دی ہے۔مقتول کے وکیل اودھیا بھانو نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم نے دیر سے گیٹ کھولنے کے جرم میں گارڈ پر لوہے کے ہتھوڑ ے سے تشدد کیا جس کے بعد گارڈ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔اودھیا نے مزید کہا کہ عدالت میں سماعت کے دوران نشام کو اس قتل کا مجرم قرار دیا گیا ۔ 


روہت کی خودکشی سے دکھی ہوں، یہ دلت یا غیر دلت کا مسئلہ نہیں۔۔اسمرتی ایرانی

نئی دہلی۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع)حیدرآباد یونیورسٹی میں دلت طالب علم روہت ویملا کی خودکشی کے معاملے میں آج انسانی وسائل کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی نے خود پریس کانفرنس کر وزارت کا موقف رکھا۔ اسمرتی ایرانی نے کہا کہ یہ دلت یا غیر دلت کا مسئلہ نہیں ہے۔ ایچ آر ڈی کی وزیر کے طور پر میں روہت کی خودکشی سے انتہائی دکھی ہوں۔ایرانی نے کہا کہ اس معاملے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں اس لئے میں آپ کے درمیان ہوں۔ یہ کوئی دلت یا غیر دلت کا مسئلہ نہیں ہے۔ طالب علموں کے درمیان تنازعہ ہوا تھا۔ جس طالب علم پر حملہ ہوا تھا وہ خود او بی سی طبقہ سے تھا۔ وارڈن نے طالب علموں کو ہاسٹل خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ طالب علموں نے معطلی کو چیلنج کیا تھا۔اس معاملے کو ذات کا مسئلہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ روہت کا سوسائڈ نوٹ دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں کسی بھی سیاسی پارٹی یا رہنما کا نام نہیں ہے۔ ہم نے ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بھیجی ہے جو حقیقت کا پتہ لگائے گی۔ اپوزیشن چاہے کچھ بھی کہے میں حقائق پر بات کروں گی۔ خود کانگریس لیڈر ہنومنت راؤ نے بھی یونیورسٹی کو خط لکھا تھا۔ ان کے خط سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے واقعات وہاں 4 سال سے ہو رہے تھے۔


نوئیڈا میں آئی جی کی گاڑی چوری ہونے سے ہلچل، پولیس تحقیقات میں مصروف

نوئیڈا۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع)گریٹر نوئیڈا کے سیکٹر ۔23 میں رہنے والے آئی ٹی بی پی کے آئی جی آنند سوروپ کی نیلے بتی والی ٹاٹا سفاری گاڑی گھر کے باہر سے چوری ہو گئی ہے۔ اس واردات کی معلومات ملنے کے بعد سے پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔آنند سوروپ ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں اور یوپی کیڈر کے آئی پی ایس ہیں۔ سوروپ نے سیکٹر ۔24 میں کار چوری کی ایف آئی آر درج کرا دی ہے، جس کے بعد سے پولیس اس معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہو گئی ہے۔ یوم جمہوریہ پر ممکنہ دہشت گردانہ حملے کا الرٹ ہونے کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں اس واقعہ کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔فی الحال دہلی سمیت پورے این سی آر میں اس واقعہ کے بعد سے ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تاہم یوم جمہوریہ پریڈ کے پیش نظر دہلی میں پہلے ہی سے احتیاط برتا جا رہا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ منگل کو ہی سوروپ کی گاڑی سروسنگ پر گئی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق، گاڑی میں سینسر لگا ہوا تھا لیکن چوری کے وقت کوئی ہوٹر نہیں بجا۔ اس سے لگتا ہے کہ چوروں نے سروس سینٹر سے ہی فرضی چابی بنا لی ہو۔ فی الحال پولیس سی سی ٹی وی کو بھی کھنگال رہی ہے۔


اردو تعلیم اور مدرسوں کے مسائل کو لے کر اجلاس کا انعقاد

جے پور۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع)راجستھان اردو ٹیچر یونین اور مدرسہ شکشا سہیوگی سنگھ کی جانب سے مشترکہ اردو رام لیلا میدان میں اجلاس منعقد کیا گیا۔ مدرسہ تعلیم اور اردو تعلیم کے سامنے چیلنجوں کو لے کر اس میں بحث کی گئی۔تقریب کے دوران اردو کی تعلیم کے لئے بہترین صحافت کے لئے ایوارڈ بھی دیے گئے۔مدرسہ پیرا ٹیچرس کے مطالبات پر مدرسہ شکشا سہیوگی سنگھ اور اردو ٹیچرس یونین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو لے کر مثبت رخ نہیں اپنائے گئے تو وہ اجلاس کو دھرنے میں تبدیل کر دیں گے۔ریاستی سرکار کی طرف سے کئے گئے فیصلوں کی وجہ سے مدرسہ شکشا سہیوگی سنگھ اور اردو اساتذہ میں کافی غصہ ہے۔ شکشا سہیوگی یونین اور راجستھان اردو ٹیچرس یونین کے 8 ویں مشترکہ ریاستی اجلاس میں کافی تعداد میں اردو اور مدارس کے اساتذہ شامل ہوئے۔ اس اجلاس کے دوران اردو اساتذہ نے اپنی بات محکمہ کے افسروں کے سامنے رکھی۔ تقریب میں اقلیتی معاملات محکمہ کی ڈائریکٹر شکنتلا سنگھ مہمان خصوصی تھیں۔ ان کے علاوہ محکمہ کے تمام افسران بھی پہنچے۔اجلاس کے دوران مدرسہ پیرا ٹیچرس نے اپنے مسائل کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ پیرا ٹیچرس کا معاہدہ مدرسہ بورڈ سے ختم کر مدرسہ منتظمہ کمیٹیوں سے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ 731 مدرسوں کا رجسٹریشن منسوخ کیا گیا ہے۔کئی سالوں سے اعزازیہ نہیں بڑھا یا گیا ہے۔ کم اعزازیہ بھی نہ تو وقت پر دیا جاتا ہے اور نہ ہی اکاؤنٹس میں دیا جا رہا ہے۔ اسکولوں میں طالب علموں کو اردو کی کتابیں مہیا کروانے ، مدرسہ پیرا ٹیچرس کی اعزازیہ کے مسائل، جیسی مانگیں محکمہ حکام کے سامنے رکھی گئیں اور ان تمام مطالبات کو لے کر ایک نمائندہ وفد مطالبہ خط کے ساتھ وزیر اعلی کی رہائش گاہ بھی گیا۔


شوہر کے و اٹس ایپ اسٹیٹس پر فحش اسٹیٹس دیکھ کر بیوی نے کی ایف آئی آردرج

کانپور۔20جنوری(فکروخبر/ذرائع) کانپور کے کوتوالی میں ایک خاتون کی منفرد ایف آئی آر پر پولیس محکمہ بھی حیران ہے. دراصل کانپور فضل گنج کی رہنے والی ایک خاتون نے کوتوالی میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے شوہر کے وہاٹس اپ اسٹیٹس پر فحش تبصرہ لکھتے رہتے ہیں. اس کے ساتھ ہی فحش فوٹو بھی لگائے رہتے ہیں.۔ خاتون کے ایف آئی آر کے مطابق اس کا شوہر اس کے نک نیم کااستعمال کرتے ہوئے نازیبا طریقے سے لکھتے ہیں.۔ آپ و اٹس ایپ پر تصویر لگا کر اس پر فحش اسٹیٹس لکھ رکھتے ہیں.۔ بہت رشتہداروں نے بھی ان کے فحش اسٹیٹس کو دیکھ کر شکایت بھی کر چکے ہیں.۔ ایس ایس پی شلبھ ماتھر کے مطابق متاثرہ خاتون کی شکایت پر اس کے شوہر کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے. جانچ شروع ہوگئی ہے۔۔ خواتین کے مطابق اس کے شوہر فنانس کاروباری ہے، وہ اپنے و اٹس ایپ کے اسٹیٹس پر ایسی باتیں لکھتا ہے جو ذاتی زندگی سے تعلق رکھتی ہے.۔ وہی اس شکایت کو لے کر پولیس والو ں کے درمیان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے.

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES