dushwari

بنگلور میں ’’اُردو رپورٹرس فورم‘‘ کی جانب سے ’’اُردو صحافیوں کے مسائل اور ان کے حل پر ایک خصوصی نشست‘‘

ریاست بھر کے معروف صحافیوں کی شرکت: آئی ایم اے کی جانب سے رپورٹرس میں ’’ٹیاب کی تقسیم آوری

بنگلور18جنوری (فکروخبرنیوز)اُردو اخبارات کا معیار اب بلند ہوچکا ہے، اب وہ زمانہ نہیں رہا جو پہلے تھا، آج اُردو اخبارات کو کارپوریٹ سیکٹرس والے چلا رہے ہیں اور مختلف ریاستوں سے بیک وقت شائع ہورہے ہیں، راشٹریہ سہارااور انقلاب اخبارات کو آپ دیکھ لیں، اس کے علاوہ قومی تنظیم نامی اخبار نے بھی اپنی اشاعت کے دائرے کو مختلف ریاستوں میں وسیع کیااور اس طرح یہ اُردو صحافت و زبان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، ان اخبارات کودیکھنے کے بعد یہ کہنا غلط ہے کہ ہمارے اخبارات دیگر زبانوں کے اخبارات سے ہم آہنگ نہیں ہے،

ان باتوں کا اظہار جناب روشن بیگ وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے کیا،وہ یہاں بنگلور میں اُردو رپورٹرس فورم کے زیرِ اہتمام ایک خصوصی اجلاس بعنوان’’اُردو رپورٹرس کے مسائل اور اُن کا حل سے‘‘ خطاب کررہے تھے، موصوف وزیر نے ریاستی حکومت کی جانب ریاستی ڈیسک قائم کرنے اور میڈیا اکیڈمی سے دئے جانے والے ایوارڈس میں اُردو رپورٹرس کی شمولیت کے لئے اپنی جانب سے کی گئی کد وکاوش کا بھی ذکر کیا۔ مولانا انظر شاہ قاسمی بنگلوری کی گرفتاری پر علماء براداری سے اپیل کی کہ کسی بھی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے ، ملت میں پائی جانے والی پریشانی کا تذکرہ وزیرِ داخلہ تک پہنچادی گئی ہے۔ اور عنقریب علماء کی ایک میٹنگ بھی وزیرِ اعلیٰ سے کروانے کی کوشش کررہاہوں، اس موقع پرروزنامہ سالار کے مدیر افتخار احمد شریف نے اُردو صحافیو ں کے مسائل اور رپورٹنگ میں کی جانے والی غلطیوں کی طرف تفصیلاً نشاندہی کی تو وہی روزنامہ پاسبان کے مدیرِا علیٰ عبیداللہ شریف نے بھی اپنے خطاب میں اخبارات کے مسائل سامنے رکھے اور حل ڈھونڈنے کی جانب سنجیدگی سے سوچنے کی تلقین کی،۔ اس موقع پر جناب سید تنویر احمد صاحب نے بھی صحافت کی اصل روح اور خبرو ں کو لکھنے کے ڈھنگ کو بتایااور کہا کہ خبروں کو سونگھ کر اس کی حساسیت کو جانتے ہوئے سرخی دی جائے اوراسی چیز کا ذکر خبر کے آغاز میں کیاجائے۔ آئی ایم اے کے ترجمان جناب مولانا عبدالرحمٰن نے آئی ایم اے کا تعارف یہاں پیش کرتے ہوئے اس کمپنی کے ذیل میں کی گئی اور کی جارہی محنتوں کو صحافیوں کے سامنے رکھا۔ ملحوظ رہے کہ پروگرام میں ریاست بھر کے قریب ایک سو سے بھی زائد اُردو رپورٹرس کو مذکورہ بالا کمپنی کی جانب سے قیمتی ٹیاب دئے گے ، جس کی جملہ مالیت دس لاکھ سے بھی زائد بتائی گئی ہے۔ 

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES