dushwari

کجریوال پر خاتون نے سیاہی پھینکی(مزید اہم ترین خبریں)

جفت طاق اسکیم کامیاب بنانے پر چیف منسٹر دہلی کا عوام سے اظہار تشکر

نئی دہلی ۔ /18 جنوری (فکروخبر/ذرائع/سیاست ) چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال پر آج ایک نوجوان خاتون نے سیاہی پھینک دی ۔ دہلی میں جفت ۔ طاق اسکیم کی کامیابی کے جشن کے طور پر عوامی ریالی کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا ۔ عام آدمی پارٹی حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بی جے پی کی سازش قرار دیا ۔ اس کے علاوہ پولیس کی سکیورٹی کوتاہی پر بھی تنقید کی ۔ اس خاتون کی بھاونا ارورہ کی حیثیت سے شناخت کی گئی جو آؤٹر دہلی کے روہنی سب سٹی کی ساکن ہے ۔

اروند کجریوال جس وقت تقریر کررہے تھے وہ چپکے سے ان کے قریب پہونچی اور پہلے کچھ کاغذات ان کی طرف لہرائے اور اس کے بعد سیاہی پھینک دی ۔ کجریوال کے گالوں اور ان کے قریب ٹھہرے دیگر افراد کے چہروں پر بھی سیاہی کے نشان پڑگئے تھے ۔ بعد ازاں کجریوال کو چہرہ صاف کرتے دیکھا گیا ۔ یہ خاتون عام آدمی سینا پنجاب یونٹ کی رکن بتائی گئی جسے پولیس نے تحویل میں لے لیا اور پوچھ تاچھ کیلئے ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن لے گئی ۔ اس سلسلے میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے ۔ دہلی پولیس نے اس 26 سالہ خاتون کو گرفتار کرنے کیلئے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے اجازت طلب کی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دہلی پولیس اور بی جے پی پر شدید تنقید کی ۔ اس کے جواب میں دہلی بی جے پی صدر ستیش اپادھیائے نے کہا کہ یہ پہلے سے طئے شدہ منصوبہ لگ رہا ہے ۔ سیاہی پھینکنے کے بعد کجریوال کو اپنی تقریر تقریباً 7 منٹ کیلئے روک دینی پڑی ۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی ملک میں یا دہلی میں کوئی اچھا کام کیا جاتا ہے تو بعض طاقتیں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جفت طاق اسکیم کو کامیاب بنانے پر عوام کا شکریہ ادا کیا ۔


مطالعہ سے فہم و شعور اور غورو فکر کے دروازے کھلتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ چودھری

بنگلور۔18جنوری(فکروخبر/ذرائع)کر نا ٹک اردو اکا دمی اپنی نو عیت کے اعتبار سے کچھ ایسے سود مند اور کار آ مد پروگرا م کر رہی ہے جو لا ئقِ تحسین ہو نے کے ساتھ لا ئقِ تقلید بھی ہیں جن کے سبب ہندوستان بھر میں کر نا ٹک اردو اکا دمی اپنی ایک انفرا دی شنا خت بنا تی جا رہی ہے۔ان میں قابلِ ذکر ’’ انِ سے ملئے‘‘اور’’حاصلِ مطا لعہ ‘‘ ہیں ضلع بنگلورو حاصلِ مطا لعہ پروگرام 16جنوری2016کو ڈاکٹر فوزیہ چودھری صاحبہ چیر پر سن کر ناٹک اردو اکا دمی کی صدارت میں منعقد ہو ا ۔ اس پروگرا م میں جنا ب مقبول احمد سرا ج نما ئندہ بی بی سی اردو سر وس اور جنا ب ملنسار اطہر احمد ڈائرکٹر آ کا ش وا نی بنگلور بطور مہمانانِ خصو صی شریک رہے اور اپنے منتخب شدہ کتابوں کے حوالے سے اپنے مطالعہ کی روشنی میں اظہارِ خیال کیا جلسے کے کنوینر جنا ب عزیز اللہ بیگ رکن کر ناٹک اردو اکا دمی نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں تمام حاضرین کے سا تھ مہما نا نِ خصوصی کا تعارف بھی پیش کیا سا تھ ہی سا تھ کتا بوں کی طبا عت اور اشاعت کو تاریخی حوا لوں سے معلو ما ت افزا ء با تیں کی۔
جنا ب مقبو ل احمد سرا ج نے ایک نو مسلم انگریز جیفری لینگ کی مشہور انگریزی کتا ب Lossing My Religion - A Call for Help کے حوا لے سے اپنے مطا لعہ کا حاصل پیش کیا ۔ موضوع نہا یت نا زک اور حسا س رہا ۔ مقبول صاحب نے نہا یت محتاط اندا ز میں اس کتاب کے کچھ اقتباسات کو تر جمہ کر کے پیش کیاجو واقعی قا بلِ غور و فکر رہے۔جنا ب ملنسا ر نے بھی ایک انگریزی کتا ب In the Company of a Poet - Gulzar in Conversation with Nasreen Munni Kabirجو کچھ فلمی شخصیا ت کے سا تھ گفتگو کو احاطہ کر تی ہے اس کی فنی خوبیاں بتا ئی خصوصاً طرزِ تحریر کی ۔اس اندا ز کی مکا لما تی سوا نحی نگا ری کی مثال اردو ادب میں نظر نہیں آتی ۔ایک ہلکی سی جھلک ’’محمو د ایا زسے گفتگو‘‘ میں نظر آ تی ہے اس کتا ب کی دو سری خو بی سہل زبا ن اور اظہارِ بیا ن کی روا نی ، تیسری خو بی منظر نگاری، ایسا لگتا ہے جیسے ہم منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں بہر کیف ملنسا ر نے نہا یت مؤثر اندا ز میں اپنے مطالعہ کا حاصل سا معین کے آ گے رکھا۔ صدا رتی تحریر میں محتر مہ ڈاکٹر فو زیہ چودھری نے اس جلسے کو کا میا ب قرار دیا اور کہا کہ اس طر ح کے جلسوں کے انعقا د مقصد لو گوں میں مطا لعہ کا ذو ق پیدا کر نا ہے کیونکہ مطا لعہ سے فہم و شعور اور غور و فکر کے در وا زے کھولتے ہیں ۔اور سا معین سے خوا ہش کی کہ اسی طرح اکا دمی کے دو سرے اجلاس میں بھی شر کت کر کے ہمیں شکریہ کا موقعہ عنا یت کریں ۔ جلسے کا آ غا ز محمد عمرا ن کی تلا وتِ قرآ نِ پا ک سے ہوا ۔نظا مت کے فرا ئض منیر احمد جا می نے انجا م دئیے۔


حیدر آباد کرناٹک ڈیولوپمینٹ بورڈ نئے سال کے دوران 3 نئے پروجیکٹ شروع کرے گا

منظور شدہ 820کروڑ روپیوں میں سے 355کروڑروپئے خرچ، نئے سال کے دوران کئی مابقی پروجیکٹوں کی عاجلانہ تکمیل کا تیقن

گلبر،18جنوری(فکروخبر/ذرائع): وزیرمیونسپل ایڈمنسٹریشن کرناٹک ، ضلع انچارج وزیر اور حیدرآباد کرناٹک علاقائی ریجنل ڈیولوپمینٹ بورڈ کے صدر نشین الحاج ڈاکٹر قمر الاسلام کی صدارت میں بورڈ کا تیسرا اجلاس برائے سال 2014-15اس کے دفتر موقوعہ ایوان شاہی روڈ گلبرگہ میں 11جنوری کی دوپہر منعقد ہوا ۔ ابتداء میں علاقائی کمشنر مسٹر آدتیہ املن بسواس نے بورڈ کے صدر اور ارکان کا خیرمقدم کیا بعد ازاں ڈاکٹر الحاج قمر الاسلام کے ہاتھوں حیدر آباد کرناٹک ڈیولوپمینٹ بورڈ کے نئے سال کے کیلنڈر اور کوالٹی کنٹرول سے متعلق اسٹیکرس کی اجرائی عمل میں لائی گئی ۔ 
الحاج ڈاکٹر قمر الاسلام نے کہا کہ بورڈ کے ابتدائی دور میں کرناٹک کے گورنر نے بورڈ کی درخواست قبول نہیں کی تھی اور اس کی کاروائی چھ ماہ تک تعطل میں پڑی ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ انتخابی قواعد کے پابندی کے تحت بھی بورڈ کی کی ابتدائی مہینوں کی کار کردگی پر اثر پڑا۔ صدر بورڈ الحاج قمر الاسلام نے کہا کہ اب ہم کسی بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کی عدم موجودگی کے سبب زیادہ سے زیادہ منظور شدہ فنڈس کو استعمال میں لاسکے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ آگے بھی اگر انتخابی ضابطہ اخلاق نہ ہو اور کوئی رکاوٹ نہ ہو تو اس صورت میں حکومت کی جانب سے علاقہ حیدر آباد کرناٹک کے لئے منظور کردہ زیادہ سے زیادہ فنڈس استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔ٍ الحاج قمر الاسلام نے کہا کہ حیدر آباد کرناٹک ایریا ڈیولوپمینٹ کی جانب سے سال 2016-17کے دوران 3نئی خصوصی اسکیمات کو روبہ عمل لایا جائیگا۔ وزیر موصوف نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیر زمین اور اوپر کے پانی کا ذخیرہ کرنے اور موسمیات کا مطالعہ اور حیدر آباد کرناٹک علاقہ میں قحط سالی سے نپٹنے ، اس میں سدھار لانے سے متعلق ایک مثالی اسکیم جاری کی جائیگی۔ حیدر آباد کرناٹک علاقہ میں نو تشکیل شدہ نئے 20گرام پنچایتوں کی جانب سے مختلف سرکاری خدمات کو ایک ہی دائیرہ میں لاکر سبھی کو بنیادی سہولیات فراہم کئے جانے کیے لئے ایم وائی گھور پاڑے پنچایت سودھا تعمیر کیا جائیگا۔ ان گرام پنچایتوں کے لئے فی گرام پنچایت 60لاکھ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ اس کے لئے بورڈ نے فی گرام پنچایت 40لاکھ روپئے مہیا کردئے ہیں ۔ ڈاکٹر قمر الاسلام نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے خصوصی فنڈ سے بورڈ کے تین نئے گرانٹس یعینی تیس کروڑ روپیوں کی رقم کو رکن پارلیمان اور ارکان قانون ساز کونسل کے سفارش کردہ تعمیری کاموں کے لیئے تقسیم کی جائیگی ۔ انھوں نے بتایا کہ بورڈ گزشتہ اکتوبر 2014سے دسمبر 2015تک کے 13 مہینوں کی معیاد میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ 820کروڑ روپیوں میں سے 355کروڑ روپئے خرچ کر چکی ہے ۔ اس طرح 43فی صدر ترقیاتی کاموں کا نشانہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مارچ کے آخر تک 250کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے 2013-14سال کے تمام اور سال 2014-15کے75فی صد تعمیری کاموں کو مکمل کرنے کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ سال 2016-17میں تمام تر۴ ترقیاتی کاموں کی تکمیل کرلی جائیگی ۔ حیدر آباد کرناٹک ڈیولوپمینٹ بورڈ کی جانب سے حیدر آباد کرناٹک کے علاقہ جات بھالکی، یلبرگہ، سیڑم ، چنچولی ، چیتا پور ،کلبرگی اور شاہ پور تعقلقہ میں کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کو معیاری طور پر انجام دیا جارہا ہے ۔ مقامی اور ٹیکنیکل مسائل کی وجوہات کی بنیاد پر بورڈ کی جانب سے منظور شدہ تعمیری کاموں کے غیر استعمال شدہ 21کروڑ روپیوں کے گرانٹ نئے تعمیری کاموں کے لئے منظور کئے جائیں گے ۔ جن کی تفصیل اس طرح ہے ۔ گلبرگہ کے لئے 35کروڑ ، رائچور کے لئے 7کروڑ، یادگیر 5کروڑ، بلاری 9کروڑ، بیدر 12کروڑ، کوپل 8کروڑ اور دیودرگ کے کرکٹ میدان اسٹیڈئیم کے لئے 2کروڑ، وشویش ریا تانتر سودھا کے لئے 2کروڑخرچ کئے جائیں گے ۔ اسی طرح کلبرگی کیانسر سنٹر پر 2کروڑروپئے ، جئے دیوا ہارٹ انسٹٹویٹ پر 2.5کروڑ خرچ کئے جائیں گے ۔ ضلع گلبرگہ میں علاقائی نمائیش اور مفت تربیتی مراکز کے لئے تین کروڑ روپئے منظور کئے جائیں گے ۔ نئے گرام پنچایتوں کے لئے ایم وائی گھورپاڑے پنچایت سودھا کے لئے 7.2کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ کرناٹک سنٹرل یونیورسٹی میں رہائشی مرکز اور ہاسپٹیالٹی سنٹر کے لئے 4کروڑ روپئے ، گلبرگہ کی دیہی سڑکوں کی تعمیر کے لئے 4.5کروڑ روپئے ، بسوکلیان کی سڑکوں کی تعمیر کے لئے 4کروپئے منظور کئے جائیں گے ۔ گلبرگہ و بلاری میں پری یونیورسٹی وڈگری کالجس کی ترقی کے لئے 2کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ الحاج قمر الاسلام نے کہا کہ حیدر آباد کرناٹک ریجنل ڈیولپمینٹ بورڈ کے تحت 2013-14کے دوران 62فیصد ترقیاتی کام انجام پاچکے ہیں ،جب کہ 2014-15کے دوران 46فیصد کام ہوئے ۔سال 2015-16میں اب تک 19فیصد ترقیاتی کاقم مکمل ہوچکے ہیں ۔ الحاج قمر الاسلام نے کہا کہ تمام تعمیراتی کاموں میں معیار کو ملحوظ رکھا جارہا ہے۔ اس موقع پر وزیر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل ، چیف منسٹر کے پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر امیش جادھو رکن اسمبلی چنچولی، ایم این بھوسراج ایم ایل سی ۔ جناب محمد اصغر چلبل صدر نشین گلبرگہ ڈیولوپمینٹ اتھارٹی بھی پریس کانفرینس میں شریک تھے ۔ قبل ازیں الحاج قمر الاسلام کی صدارت میں حیدر آباد کرناٹک ریجنل ڈیولوپمینٹ بورڈ کے اجلاس میں تقدس مآب حضرت ڈاکٹر سید شاہ گیسو دراز خسروحسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین ، بارگاہ بندہ نواز ؒ ، صدر خواجہ ایجوکیشن سوسائیٹی اور حیدر آباد کرناٹک ریجنل ڈیولوپمینٹ بورڈ کے رکن و خصوصی مدعو نے کے علاوہ دیگر ارکان بورڈ نے شرکت کی ۔


تلگو فلم ’’ننا کوپریما تو ‘‘کے پوسٹر کے ذریعہ 

مسلم جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر فلم پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

کلبرگی ،18جنوری(فکروخبر/ذرائع)صدر تعمیر ملت گلبرگہ جناب وہاج بابا ایڈوکیٹ نے 11؍جنوری کو ڈپٹی کمشنر گلبرگہ کے توسط سے چیف منسٹر تلنگانہ کو ایک یادداشت روانہ کی۔اس یادداشت کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تلگو فلم ’’ننا کوپریما تو ‘‘کے پوسٹر میں قرآنی آیات اور مقدس الفاظ بھی شائع کئے گئے ہیں۔اس طرح قرآنی آیات اللہ اور رسول ﷺ کے ناموں کی رقص کرتے ہوئے فلمی اداکاروں کے پوسٹر میں اشاعت سے مسلمانوں کی دلآزاری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ سنسر بورڈ نے اس طرح کا پوسٹر شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔سابق میں بھی اسی طرح کے واقعات ہوئے جن کے سبب مسلمانوں کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اسی طرح کے پوسٹروں سے ہمارے شہر گلبرگہ میں فلموں کی تشہیر کی گئی تو اس صورت میں شہریان گلبرگہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔جناب وہا ج بابا نے سنسر بورڈ اور حکومت تلنگانہ سے درخواست کی ہے کہ وہ مذکورہ بالا تلگو فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کردیں۔اس فلم کے پروڈیوسر ،ڈائرکٹر اور اسٹار س وغیرہ کو حکم دیں کہ وہ مذکورہ بالا اہانت آمیز پوسٹر کے اشاعت کیلئے مسلمانوں سے معافی طلب کریں۔


عوام کو اطمینان بخش اور جلد انصاف دلانا ضروری۔ جسٹس چوہان 

سہارنپور۔18جنوری (فکروخبر/ذرائع)الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس کل دوپہر مقامی بار کونسل کے نئے عہدے داران کی رسم حلف برداری تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل ہونے کیلئے سہارنپور پہنچے یہاں آمد پر جسٹس ایس ایس چوہان کابار کونسل کے مقامی ممبران جنا ب ستیہ پال سینی، انوراگ گپتہ، ٹھاکر وشمبھرسنگھ ، قابل ضلع جج امیش چند ترپاٹھی، جج امت پال سنگھ،جج فراح مطلوب، جج ایاز احمد، جج،ببیتا رانی، جج گیانپرکاش اور جج جی پی تیواریاور جج وجیندر پانڈے نے شاندار طور سے والہانہ استقبال کرتے ہوئے گل پوشی کی اس موقع پر آپنے سب سے پہلے پال ایسوسی ایشن کے نئے عہدے داران کے حلف کی رسم ادا کرائی اسکے بعدالٰہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس ایس ایس چوہان نے اپنے اہم خطاب کے دوران وکلاء سے کہاکہ ہمیشہ ہی الٰہ آباد ہائی کورٹ بینچ اور ریاستی وکلاء میں اخلاص کا میٹھا رشتہ رہاہے اور آج بھی بار اور بینچ کے درمیان دوستانہ تعلقات کے باعث ہی ہم ملکر عوام کو جلد اور اطمینان بخش انساف وقت مقررہ میں دستیاب کرانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس عوام کو اطمینان بخش اور جلد انصاف دلانا ہماری ذمہ داری بنتی ہے جسٹس چوہان نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جلد انصاف ملنے سے عدلیہ کی حیثیت کو طقویت حاصل ہوتی ہے جو بہترین سوغات ہے، الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس ایس ایس چوہان نے کہاکہ وکلاء مؤکلان کے ساتھ بھی اطمینان بخش معاملات بنانے کی اور سدھارنے کی پہل کو تعاون دیں تاکہ عدلیہ اور وکلاء کے درمیان رشتہ مزید مضبوط بنے رہیں آپنے عوام کو جلد انصاف دلانے کے قابل قدر چیف جسٹس کے عہد کو تقویت دیتے ہوئے کہاکہ عدالت میں آنے والا ہر شخص جلد اور اطمینان بخش انصاف پانے کا مستحق ہے بس اس بابت ہمیں بھی اپنی ذمہ داری طے کرناہوگی تاکہ عوام کا بھروسہ عدلیہ اور بار پر ہمیشہ کی مانند قائم ودائم رہے۔


عدلیہ کی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہر سطح پر شفافیت ضروری ! 

سہارنپور۔18جنوری (فکروخبر/ذرائع)مقامی سول کورٹ میں کل دوپہر ضلع ججی سول کورٹ کی تمام عدالتوں کو سیدھے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے جوڑنے والے جدید سسٹم ویڈیو کانفرنس سسٹم اور اس جدید طرز پر تیار ہال کا افتتا ح الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس جناب ایس ایس چوہان نے اپنے دست مبارک سے کرتے ہوئے بتایا کہ اس سسٹم سے سرکار پر خرچہ کا بوجھ کم ہوگا ساتھ ہی ساتھ کم وقت میں ہر ایک مقدمہ کی تفصیل منٹ بھر میں آن لائن دستیاب رہیگی اب جیل سے قیدیوں کو لانے لیجانے میں بھی آسانی رہیگی اور ضلع ججی کے مقدمات سے متعلق معلومات سہل ہوگی اس عمل سے مؤکلان، وکلاء اور عدلیہ کو کافی آسانی ہوگی مقامی سول کورٹ میں کل دوپہر ضلع ججی سول کورٹ کی تمام عدالتوں کو سیدھے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے جوڑنے والے جدید سسٹم ویڈیو کانفرنس ہال کے افتتاح کے بعد جسٹس ایس ایس چوہان نے بیباک لہجہ میں بتایا کہ یہ سسٹم بدعنوانی کے خاتمہ کا سب سے موثر ذریعہ ہے اور اس سے سرکاری رقم کی بچت کے ساتھ ساتھ پیروکاروں کابھی وقت اور پیسہ بچیگا اس کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے طریقہ اور کام کے عمل میں بھی بہتر طور سے تیزی آئیگی جناب جسٹس نے کہاکہ ہمارے وکلاء جس نیک نیتی سے عوام کی خدمات انجام دیتے آرہے ہیں وہ قابل رشک عمل ہے آپنے وکلاء اور عدلیہ کے ذمہ داران سے بھی یہ اہم گزارش کی کہ سبھی ذمہ داران اپنے اپنے طریقہ اور کام میں تیزی کے ساتھ ساتھ عوام کے لئے عدلیہ کی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہر سطح پر شفافیت کا مظاہرہ کریں،الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس جناب ایس ایس چوہان نے اپنے بیباک لہجہ سے لبالب الفاظ میں واضع کیاکہ مقدمات کا بوجھ کرنا بھی ہم سبھی کی ذمہ داری بنتی ہے آپنے سپریم کورٹ کے قابل احترام چیف جسٹس جناب ٹھاکر کی خدمات کو سراہتے ہوئے انکی شاندار کارکردگی سے سبق لینے کی صلاح دی اور کہاکہ جس طرح سے جناب ٹھاکر عدلیہ کے کاموں تیزی اور شفافیت چاہتے ہیں ہمیں بھی اسی طرز پر کام کو انجام دینا ہوگا تاکہ مقد مات کے فریقین اطمینان کی سانسیں لیں اور اپنے مقدمات کا جلد تصفیہ ہونے سے بھی فیض اٹھائیں۔ اس موقع پر سینئر وکلاء کے علاوہ چند سینئر صحافی بھی موجود تھے ۔ 


اردواکادمی کے زیراہتمام اردو کتابوں کی نمائش اور فروخت کابیدر کی تاریخ

میں پہلی دفعہ اہتمام کیاگیاتھاجسے توقع سے بڑھ کر کامیابی نصیب ہوئی

بیدر۔18جنوری (فکروخبر/ذرائع) یاران ادب بیدر ، بزم غزالاں بیدر اور این آرآئیز اردواکادمی کے زیراہتمام اردو کتابوں کی نمائش اور فروخت کابیدر کی تاریخ میں پہلی دفعہ اہتمام کیاگیاتھاجسے توقع سے بڑھ کر کامیابی نصیب ہوئی۔ اردو کتابوں کے چاہنے والے مردو خواتین نے جس نوعیت کی اردو کتابوں کو خریدناچاہا ان میں سے اکثروبیشتر کتابیں اسٹال والوں کے پاس نہیں تھی۔ اس کے باوجو د ایک روزہ نمائش اور فروخت کی تقریب میں صرف چاراسٹالس لگائے گئے تھے جہاں 11762روپیوں کی کتابیں فروخت ہوئیں ۔اگر مزید اسٹالس اپنی شرکت کو یقینی بناتے اور گاہکوں کی مطلوبہ کتابیں ہوتیں تو یہ رقم ایک لاکھ تک پہنچ سکتی تھی ۔ یہ بات محمدیوسف رحیم بیدری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آج کہی۔ انھوں نے مزید کہاکہ خواتین نے اس نمائش میں شریک ہوکر اور کتابیں خرید کر ہمیں حوصلہ بخشا ہے بلکہ کتابوں کی خریداری کے لئے سب سے پہلے دوبرقع پوش خواتین نمائش گاہ آئی تھیں۔ ہم آئندہ بھی مذکورہ تنظیموں کے تحت اردو کتابوں کی نمائش جاری رکھیں گے۔بیدر کے ایم آرپلازاتعلیم صدیق شاہ بیدر میں منعقدہ اِس نمائش کا افتتاح محکمہ تعلیمات عامہ کے افسر ڈاکٹر محمدگلسین بی ای او بیدر نے کیااور اپنے مختصر سے خطاب میں کہاکہ اردو کتابوں کی فراہمی ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن آزاد انہ کام کرنے والی اردو تنظیمیں اس طرف متوجہ ہوں تو یہ مسئلہ حل ہوسکتاہے اور اردو کی ترقی ممکن ہے۔ جناب محمدآصف الدین سکریٹری وزڈم تعلیمی ادارہ جات بیدر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بیدر جیسے تاریخی لیکن چھوٹے سے شہر میں اردو کتابوں کی نمائش ضروری تھی ۔ اوریہ وہ کارنامہ ہے جو محمدیوسف رحیم بیدری اور ان کے ساتھیوں نے انجام دیاہے۔ اس سلسلہ کو جاری رکھنا چاہیے۔ محمدیوسف رحیم بیدری سکریٹری یاران ادب بیدر کی نظامت میں افتتاحی پروگرام ہواجس میں انھوں نے بی ای او بیدر سے گزارش کی کہ بیدر میں جو ادبی کتابیں شائع ہورہی ہیں ان کتابوں کو اگریہاں کے اسکولوں کی لائبریریاں خریدتی ہیں اور اس کے لئے وہ احکامات جاری کریں تو اردو کتابوں کی نکاسی ہوگی اور اردو کتابوں کاتحفظ ہوگا۔ افتتاحی پروگرام میں محکمہ تعلیمات عامہ، سیاسی میدان اور اساتذہ تنظیم کے عہدیدارشریک رہے۔ جن میں سیدخورشید قادری ریاستی سکریٹری آئیٹا، الحاج انصاراللہ بیگ ریاستی نائب صدر آئیٹا، اخترا حمد خان ضلعی صدر آئیٹا، دفتر بی ای او کے ای سی ا و الحاج حافظ ریاض قریشی ، سید منصور احمدقادری کونسلر، محمداسدالدین مینجنگ ٹرسٹی محمدعلیم الدین فاؤنڈیشن بیدر ، غالب ہاشمی ، مبشرسندھے ، محمدفرقان پاشاہ ڈائٹ ، ڈاکٹر محمدنظام الدین لیکچرر،حیدرآباد کرناٹک علاقہ کی معروف اردو شاعرہ ریحانہ بیگم، رخسانہ نازنین سکریڑی بزم غزالاں ، مبشرسندھے انجینئر،محمد اسمعیل پٹیل صدر مدرس، منصوراحمد خان مؤظف میرمعلم ،محمداسحق جنواڑکر، اسدسلیم میرمعلم ، سید لطیف خلش، محمدامیرالدین امیرؔ ، ناز حمیدالدین احمد، حیدرعلی شاکر صدر یاران ادب بیدر ، محمداسلم ، عمربن علی، محمدایوب علی ماسٹر نیڈس،عبدالجبار دانش،محمدسراج الحسن ، محمدسلطان ، محمدفہیم الدین اوردیگر شامل تھے۔ نمائش کے افتتاح سے پہلے اور اس کے بعد بیدر شہر اور اطراف واکناف کے دیہاتوں سے محبان اردو کی آمد جاری رہی ۔غیرمسلم احباب میں جانپد فنکارہ مایادیوی گائیکواڑ،سدھاکر ایکمبیکر،ماروتی باوی دوڈی ،نتن پپا کے علاوہ محمدماجد شمیم پٹیل صدر بیدر ضلع وقف بورڈ، محمدظفراللہ خان ،معاون امیرمقامی جماعت اسلامی ہند، سید جمیل احمد ہاشمی صدر ادارہ ادبِ اسلامی ، محمدحسین مؤظف کمشنر بلدیہ، سید یوسف ہاشمی ماہرتعلیم،محمدجنید جنوایس آئی او، شاہ سعودقادری ،بی این علی ، محمدریاض الدین (ہوٹل والے)،محمدعلیم الدین الفا، آئیٹا بیدر کے صد ر نجیب الرحمن خان ،اظہر احمد خان نائب صدریوتھ کانگریس بیدر شمال، عبدالصمد مظہر ، اکرام الدین ساحل، عبدالمقتدرتاج ، محمدنعیم الدین سومواسٹیل ، حافظ کلیم الدین امبرڈریسس، حفیظ سیٹھ تاج آئیسکریم،شاہ عظیم الدین قادری، شاہ نجم الدین قادری لڈو،محمدروشن کمٹھانہ، این آرآئیز میں علی قادری ، ایک اور این آرآئیز کے قائم مقامی محمدشاداب نے کی ۔خواتین قلمکاروں اور معروف استانیوں میں شاہین فاطمہ، نوشاد بیگم صدر بزم غزالاں ، وائفہ اشرف، مسرت انجم، فرحت ٹیچر ، اِرم فاطمہ ہمشیر ہ ڈاکٹر انجم شکیل (مدینہ منورہ)، بشارت جہاں ، رانا ثمین 
مع والدہ اور ہمشیر ہ ، نغمہ خان ، مدیحہ سلمیٰ ، دلشاد مہک ، مثیرہ ام سلمہ ، وغیرہ نمائش میں شریک رہیں ۔محمدیوسف خان ماہرفنون لطیفہ ، حیدرعلی شاکر، ناز حمیدالدین احمد، عمربن علی ، امیرالدین امیرؔ ، محمدایوب علی نیڈس، سید منورحسین،سخاوت علی سخاوتؔ ، عمران خان، کے علاوہ طلباء میں محمدعاقل نذیر، محمداسحق ابوبکر، محمدعمرفاروق، ماسٹر سیان، وغیرہ نے انتظامی امور کی دیکھ بھال کی ۔ایم آرپلازا کے مالک جناب رئیس الدین نے انتظامات پر اپنی مسرت کا اظہا رکیاجبکہ حیدرعلی شاکر صدر یاران ادب بیدر نے حق نیوزپیرایجنٹ ، ذکریٰ بک سنٹر بسواکلیان ، اسدسلیم اورکتب خانہ یاران ادب بیدر کے عہدیداران کا اسٹال لگانے پر شکریہ اداکیا۔ایک اندازے کے مطابق تقریباً تین ہزار افراد نے اردوکتب کی اس نمائش کودیکھااورسراہا ۔

Urdu-Arabic-Keybaord11

ISLAMIC-MESSAGES